حدیث نمبر: 7457
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَرْحَمَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعَسَلُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَزْقَاقٍ زِقٌّ " تَفَرَّدَ بِهِ هَكَذَا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّمِينُ وَهُوَ ضَعِيفٌ قَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا، وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: هُوَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”شہد کے دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ ہے۔“
حدیث نمبر: 7458
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتُعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ لِي نَحْلًا. قَالَ: " أَدِّ الْعُشْرَ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: احْمِ لِي جَبَلَهَا فَحَمَاهُ لِي وَهَذَا أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي وُجُوبِ الْعُشْرِ فِيهِ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى لَمْ يُدْرِكْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي زَكَاةِ الْعَسَلِ شَيْءٌ يَصِحُّ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ يَعْنِي بِذَلِكَ تَضْعِيفَ رِوَايَتِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا فِي الْعَسَلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سیارہ متعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس شہد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا عشر ادا کر۔“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس پہاڑ کو میرے حوالے کر دیں، تو آپ ﷺ نے وہ اس کے حوالے کر دیا۔
سلیمان بن موسیٰ کی صحابہ میں سے کسی سے ملاقات نہیں اور شہد میں کوئی زکاۃ نہیں، یہ بات درست ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن محرر متروک الحدیث ہیں اور اس کی روایت میں ضعف ہے۔
سلیمان بن موسیٰ کی صحابہ میں سے کسی سے ملاقات نہیں اور شہد میں کوئی زکاۃ نہیں، یہ بات درست ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن محرر متروک الحدیث ہیں اور اس کی روایت میں ضعف ہے۔
حدیث نمبر: 7459
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَرَّرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ " أَنْ يُؤْخَذَ مِنَ الْعَسَلِ الْعُشْرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل یمن کو لکھ بھیجا کہ ”شہد سے عشر وصول کیا جائے۔“
حدیث نمبر: 7460
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " جَاءَ هِلَالٌ أَحَدُ بَنِي مُتْعَانَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ، فَلَمَّا تَوَلَّى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، ⦗٢١٣⦘ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَدِّ إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدَّى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشُورِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ متعان کے بیٹوں میں سے ہلال رسول اللہ ﷺ کے پاس شہد کا عشر لے کر آیا اور عرض کیا: یہ وادی میرے حوالے کر دی جائے جسے سلبۃ کہا جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے اس کے حوالے کر دی۔ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ جو تو رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتا تھا، وہ ادا کر دے، یعنی شہد کی زکوٰۃ، اور سلبہ وادی اس کو الاٹ کر دی اور فرمایا: ”وہ تو بارش کی مکھی ہے جہاں سے چاہتی ہے کھاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 7461
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ شَبَابَةَ، بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ. وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: وَكَانَ يَحْمِي لَهُمْ وَادِيَيْنِ زَادَ فَأَدُّوا إِلَيْهِ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ. وَرَوَاهُ أَيْضًا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو نَحْوَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ہر دس مٹکوں (مشکیزوں) میں سے ایک ہے۔“ سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے انہیں دو وادیاں الاٹ کر رکھی تھیں، تو انہوں نے اس قدر زکاۃ ادا کی جو وہ رسول اللہ ﷺ کو ادا کیا کرتے تھے اور انہوں نے انہیں ان کی وادی بھی الاٹ کر دی۔
حدیث نمبر: 7462
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: " قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ " قَالَ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَهْلِ السُّرَاةِ. قَالَ: " فَكَلَّمْتُ قَوْمِي فِي الْعَسَلِ، فَقُلْتُ: لَهُمْ زَكَاةٌ فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي ثَمَرَةٍ لَا تُزَكَّى "، فَقَالُوا: كَمْ قَالَ؟ فَقُلْتُ: " الْعُشْرُ، فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا كَانَ قَالَ: فَقَبَضَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَاعَهُ ثُمَّ جَعَلَ ثَمَنَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اسلام قبول کر لیا، پھر میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری قوم کے جو لوگ اسلام لائے ان کے اموال کے بارے میں لکھ دیں“ تو آپ ﷺ نے لکھ دیا اور اسے اس پر عامل مقرر کر دیا، پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا اور سعد رضی اللہ عنہ سراۃ والوں میں سے تھے، فرماتے ہیں: وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی قوم سے شہد کے متعلق بات کی اور میں نے ان سے کہا کہ اس میں زکوۃ ہے۔ بیشک ان پھلوں میں کوئی بھلائی نہیں جن کی زکوۃ ادا نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا: کتنی زکوۃ ہے؟ تو میں نے کہا: ”دسواں حصہ“، پھر میں نے ان سے عشر وصول کیا اور میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس بات سے آگاہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے وہ لے لیا اور فروخت کر دیا، پھر اس کی قیمت مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کر دی۔
حدیث نمبر: 7463
وَأَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ أَبُو ضَمْرَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي الْعَسَلِ. وَرَوَاهُ الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُنِيرٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، ⦗٢١٤⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ..
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عباد مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو ضمرہ انس بن عیاض رحمہ اللہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 7464
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الزُّهْرِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ لَنَا ابْنُ نَاجِيَةَ: كَذَا قَالَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ، يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ اللهِ وَالِدُ مُنِيرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: مُنِيرٌ هَذَا لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ابو ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن ناجیہ رحمہ اللہ نے ہمیں اسی معنی میں حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 7465
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ مُعَاذَ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى بِوَقْصِ الْبَقَرِ وَالْعَسَلِ حِسْبَتَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كِلَاهُمَا لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس گائے کے بچے اور شہد لائے گئے، جن کا میں نے حساب کیا۔ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان دونوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 7466
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: جَاءَ كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي وَهُوَ بِمِنًى أَنْ " لَا تَأْخُذْ مِنَ الْخَيْلِ وَلَا مِنَ الْعَسَلِ صَدَقَةً " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ يَحْكِي مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْهُ بِأَخْذِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْعَسَلِ وَأنَّهُ شَيْءٌ رَآهُ فَتَطَوَّعَ لَهُ بِهِ أَهْلُهُ. قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: الْحَدِيثُ فِي أَنَّ فِي الْعَسَلِ الْعُشْرَ ضَعِيفٌ وَفِي أَنْ لَا يُؤْخَذَ مِنْهُ الْعُشْرُ ضَعِيفٌ، إِلَّا عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَاخْتِيَارِي أنَّهُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهُ لِأَنَّ السُّنَنَ وَالْآثَارَ ثَابِتَةٌ فِيمَا يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَيْسَتْ فِيهِ ثَابِتَةٌ فَكَأنَّهُ عَفْوٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت مالک رحمہ اللہ، عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف سے ایک تحریر میرے والد کے پاس آئی، اس وقت وہ منیٰ میں تھے کہ گھوڑے اور شہد سے زکاۃ نہ لی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شہد کی زکاۃ وصول کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق سوچا گیا کہ اس میں زکاۃ ہونی چاہیے، پھر یہ اضافی لوگوں پر مقرر کی گئی ہے۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جس حدیث میں یہ ہے کہ ”شہد میں زکاۃ ہے“ وہ ضعیف ہے اور جس میں ہے کہ ”عشر نہ لیا جائے“ وہ بھی ضعیف ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شہد کی زکاۃ وصول کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق سوچا گیا کہ اس میں زکاۃ ہونی چاہیے، پھر یہ اضافی لوگوں پر مقرر کی گئی ہے۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جس حدیث میں یہ ہے کہ ”شہد میں زکاۃ ہے“ وہ ضعیف ہے اور جس میں ہے کہ ”عشر نہ لیا جائے“ وہ بھی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 7467
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَيْسَ فِي الْعَسَلِ زَكَاةٌ ". قَالَ يَحْيَى: وَسُئِلَ حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنِ الْعَسَلِ فَلَمْ يَرَ فِيهِ شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ علی رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے فرمایا: شہد میں زکاۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 7468
وَذُكِرَ عَنْ مُعَاذٍ أنَّهُ " لَمْ يَأْخُذْ مِنَ الْعَسَلِ شَيْئًا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الَأُرْدِسْتَانِيُّ أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ وَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن میسرہ رحمہ اللہ، طاؤس رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو اہل یمن کی طرف بھیجا اور اس طرح حدیث بیان کی۔