کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کا بیان کہ آدمی اپنے پوشیدہ اموال کی زکوٰۃ خود تقسیم کرنے کی ذمہ داری ادا کرے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، صَاحِبُ الْعَبَاءِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، قَالَ: جِئْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِائَتَيْ دِرْهَمٍ قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا زَكَاةُ مَالِي قَالَ: " وَقَدْ عَتِقْتَ يَا كَيْسَانُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبْ بِهَا أَنْتَ فَاقْسِمْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو سعید مقبری فرماتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس دو سو درہم لے کر آیا اور میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ میرے مال کی زکاۃ ہے۔ انہوں نے کہا: اے کیسان! تو آزاد ہو گیا؟ تو میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: تو یہ لے جا اور تقسیم کر دے۔