کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مادہ جانور مر جائیں اور بچے نصاب کے برابر باقی رہ جائیں تو زکوٰۃ ان بچوں میں سے لی جائے گی
حدیث نمبر: 7324
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗١٧٥⦘ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي نَفْسَهُ وَمَالَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنْ قَدْ شَرَحَ اللهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. قَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ يَعْنِي بِذَلِكَ قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنَ الْكِتَابِ، قَالَ لِيَ ابْنُ بُكَيْرٍ وَعَبْدُ اللهِ عَنِ اللَّيْثِ يَعْنِي عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: عَنَاقًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَخَالَفَهُمَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ اللَّيْثِ عَنْ عَقِيلٍ، فَقَالَ عِقَالًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہوئے تو آپ ﷺ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت اختیار کی اور عرب میں جس نے (دین سے) انکار کرنا تھا کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! آپ لوگوں سے کیسے لڑائی کریں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے تب تک لڑائی کروں جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کا اقرار نہ کر لیں، اور جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے اپنے مال و جان کو محفوظ کر لیا مگر اس کے حق کے ساتھ، اور پھر اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس سے بھی لڑوں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کی اور زکوٰۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے زکوٰۃ کا ایک بچہ بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ادا کیا کرتے تھے، تو اس کے روکنے کی وجہ سے میں ان سے لڑائی کروں گا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حق ان کے دل پر کھول دیا لڑائی کرنے کے لیے یہاں تک کہ میں نے جان لیا کہ یہی حق (درست) ہے۔
حدیث نمبر: 7325
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: " وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: عِقَالًا، وَرَوَاهُ عَنْبَسَةُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: عَنَاقًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَالَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَمَعْمَرٌ وَالزُّبَيْدِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا. وَرَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عِقَالًا. قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ رَبَاحٍ عَنَاقًا. قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ مَعْمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعِقَالُ صَدَقَةُ سَنَةٍ وَالْعِقَالَانِ صَدَقَةُ سَنَتَيْنِ قَالَ الشَّيْخُ: وَالْعَنَاقُ لَا يُتَصَوَّرُ أَخْذُهَا إِلَّا فِيمَا ذَكَرْنَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عقیل فرماتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بیان کیا اور فرمایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: اللہ کی قسم! اگر انہوں نے بکری کا ایک بچہ بھی روکا، ایک حدیث میں ہے کہ ایک رسی بھی روکی تو میں جنگ کروں گا۔
ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ نے کہا کہ «عِقَالٌ» ”ایک سال کی زکوٰۃ“ اور «عِقَالَانِ» ”دو سال کی زکوٰۃ“ ہو گی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ بچے کے لینے کا تصور نہیں کیا جا سکتا مگر اس صورت میں ہے جو ہم نے بیان کی۔
ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو عبیدہ معمر بن مثنیٰ نے کہا کہ «عِقَالٌ» ”ایک سال کی زکوٰۃ“ اور «عِقَالَانِ» ”دو سال کی زکوٰۃ“ ہو گی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ بچے کے لینے کا تصور نہیں کیا جا سکتا مگر اس صورت میں ہے جو ہم نے بیان کی۔