کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: زکوٰۃ وصول کرنے والے کے ہاتھ میں زکوٰۃ کا مال ضائع ہو جائے تو مال کے مالک پر اس کا تاوان نہیں ہو گا
حدیث نمبر: 7283
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، ⦗١٦٤⦘ أَخْبَرَكَ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا لَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں نے زکوٰۃ آپ کے قاصد کو دے دی، کیا میں اللہ اور اس کے رسول کے لیے اس سے بری ہو گیا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب تو نے میرے قاصد کو ادا کر دی تو تو اس سے بری ہو گیا، تیرے لیے اس کا اجر ہو گا اور اس کا گناہ اس پر ہو گا جس نے اسے تبدیل کیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7283
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه أحمد»