حدیث نمبر: 7272
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: سَمِعْتُهُ مِنَ الرِّيَاشِيِّ، وَأَبِي حَاتِمٍ وَغَيْرِهِمَا وَمِنْ كِتَابِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ وَمِنْ كِتَابِ أَبِي عُبَيْدٍ وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَحَدُهُمُ الْكَلِمَةَ قَالُوا: يُسَمَّى الْحُوَارَ، ثُمَّ الْفَصِيلَ إِذَا فَصَلَ، ثُمَّ تَكُونُ بِنْتَ مَخَاضٍ لِسَنَةٍ إِلَى تَمَامِ سَنَتَيْنِ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي الثَّالِثَةِ فَهِيَ بِنْتُ لَبُونٍ فَإِذَا تَمَّتْ لَهَا ⦗١٦٠⦘ ثَلَاثُ سِنِينَ فَهِيَ حِقَّةٌ إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ؛ لِأَنَّهَا اسْتَحَقَّتْ أَنْ تُرْكَبَ وَيُحْمَلَ عَلَيْهَا الْفَحْلُ، وَهِيَ تُلَقَّحُ وَلَا يُلَقِّحُ الذَّكَرُ حَتَّى يُثَنِّيَ، وَيُقَالُ لِلْحِقَّةِ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ؛ لِأَنَّ الْفَحْلَ يَطْرُقُهَا إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ فَإِذَا طَعَنَتْ فِي الْخَامِسَةِ فَهِيَ جَذَعَةٌ حَتَّى يَتِمَّ لَهَا خَمْسُ سِنِينَ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي السَّادِسَةِ وَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ حِينَئِذٍ ثَنِيٌّ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ سِتًّا، فَإِذَا طَعَنَ فِي السَّابِعَةِ سُمِّيَ الذَّكَرُ رَبَاعِيًا وَالْأُنْثَى رَبَاعِيَةً إِلَى تَمَامِ السَّابِعَةِ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الثَّامِنَةِ أَلْقَى السِّنَّ السَّدِيسَ الَّذِي بَعْدَ الرَّبَاعِيَةِ فَهُوَ سَدِيسٌ وَسَدَسٌ إِلَى تَمَامِ الثَّامِنَةِ، فَإِذَا دَخَلَ فِي التِّسْعِ فَاطَّلَعَ نَابُهُ فَهُوَ بَازِلٌ بَزَلَ نَابُهُ يَعْنِي طَلَعَ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الْعَاشِرَةِ فَهُوَ حِينَئِذٍ مُخْلِفٌ ثُمَّ لَيْسَ لَهُ اسْمٌ وَلَكِنْ يُقَالُ بَازِلُ عَامٍ وَبَازِلُ عَامَيْنِ وَمُخْلِفُ عَامٍ وَمُخْلِفُ عَامَيْنِ وَمُخْلِفُ ثَلَاثَةِ أَعْوَامٍ إِلَى خَمْسِ سِنِينَ، وَالْخَلِفَةُ الْحَامِلُ وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَفْسِيرَ أَسْنَانِ الْإِبِلِ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ نَحْوَ هَذَا، وَزَادَ فَقَالَ: وَإِنَّمَا سُمِّيَ ابْنَ مَخَاضٍ يَعْنِي الذَّكَرَ مِنْهَا؛ لِأَنَّهُ فَصَلَ عَنْ أُمِّهِ وَلَحِقَتْ أُمُّهُ بِالْمَخَاضِ وَهِيَ الْحَوَامِلُ فَهُوَ ابْنُ مَخَاضٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ حَامِلًا، قَالَ: وَإِنَّمَا سُمِّيَ ابْنَ لَبُونٍ لِأَنَّ أُمَّهُ وَضَعَتْ غَيْرَهُ فَصَارَ لَهَا لَبَنٌ..
حافظ ثناء اللہ
ابو عبید رحمہ اللہ کی تحریر کے مطابق ایک لفظ «حِوَارٌ» ”حوار“ ہے، یہ ابتدائی عمر ہے، پھر «فَصِيلٌ» ”فصیل“ ہے جب وہ دودھ چھوڑے، پھر «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہے یعنی ایک سال سے دو سال کی عمر تک، جب وہ تیسرے سال میں داخل ہو جائے تو وہ «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہے۔ جب اس کے تین سال پورے ہو جائیں تو وہ «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہے چار سال مکمل ہونے تک؛ کیونکہ وہ مستحق ہوتی ہے کہ اس پر اونٹ چھوڑا جائے اور وہ حاملہ ہو جائے، اور مذکر تب تک مؤنث کے پاس نہیں جاتا جب تک وہ اس لائق نہ ہو جائے اور یہ اس کے چار سال کی عمر میں ہوتا ہے اس لیے اسے «حِقَّةٌ» ”حقہ“ کہتے ہیں اور «حِقَّةٌ» ”حقہ“ کو «طَرُوقَةُ الْفَحْلِ» ”طروقۃ الفحل“ بھی کہتے ہیں۔ اور جب وہ پانچویں سال میں داخل ہو تو یہ «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ کہلاتا ہے پانچ سال پورے ہونے تک، اور جب وہ چھٹے سال میں داخل ہوتی ہے اور سامنے والے دانت گر جاتے ہیں اس لیے چھ سال پورے ہونے تک اسے «ثَنِيٌّ» ”ثنی“ کہتے ہیں، اور جب وہ اپنی عمر کے ساتویں سال میں داخل ہو تو مذکر کو «رَبَاعٌ» ”رباع“ اور مؤنث کو «رُبَاعِيَّةٌ» ”رباعیہ“ کہتے ہیں سات سال پورے ہونے تک، اور جب وہ عمر کے آٹھویں سال میں داخل ہوتا ہے تو اپنے «سَدَسٌ» ”سدس“ دانت گرا دیتا ہے جو رباعی دانتوں کے بعد ہوتے ہیں اور وہ آٹھ سال پورے ہونے تک «سَدَسٌ» ”سدس“ اور «سَدِيسٌ» ”سدیس“ کہلاتا ہے۔ اور جب وہ نویں سال میں داخل ہوتا ہے تو اس کی داڑھیں ظاہر ہوتی ہیں تو وہ «بَازِلٌ» ”بازل“ کہلاتا ہے داڑھوں کے استعمال کی وجہ سے۔ جب وہ دسویں سال میں داخل ہو جاتا ہے تو اسے «مُخْلِفٌ» ”مخلف“ کہتے ہیں، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں، لیکن اسے «بَازِلُ عَامٍ» ”بازل عام“ (ایک سالہ بازل) یا «بَازِلُ عَامَيْنِ» ”بازل عامین“ (دو سالہ بازل)، «مُخْلِفُ عَامٍ» ”مخلف عام“ (ایک سالہ مخلف) اور «مُخْلِفُ عَامَيْنِ» ”مخلف عامین“ (دو سالہ مخلف) اور تین سالہ مخلف پانچ سال تک کہا جاتا ہے اور «خَلِفَةٌ» ”خلفۃ“ سے مراد حمل اٹھانے والی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں اونٹوں کی عمر کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جو «ابْنُ مَخَاضٍ» ”ابن مخاض“ نام رکھا ہے وہ مذکر کے لیے ہے کیونکہ اسے اس کی ماں سے جدا کر لیا جاتا ہے اور وہ اس وجہ سے حاملہ ہو جاتی ہے تو وہ «ابْنُ مَخَاضٍ» ”ابن مخاض“ کہلاتا ہے، اگرچہ وہ حاملہ نہ ہو، جو «ابْنُ لَبُونٍ» ”ابن لبون“ نام رکھا گیا ہے وہ اس لیے کہ اس کی ماں دوسرے کو جنم دیتی ہے اور وہ دودھ اس کا ہو جاتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے حرملہ کی روایت میں اونٹوں کی عمر کا تذکرہ کیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جو «ابْنُ مَخَاضٍ» ”ابن مخاض“ نام رکھا ہے وہ مذکر کے لیے ہے کیونکہ اسے اس کی ماں سے جدا کر لیا جاتا ہے اور وہ اس وجہ سے حاملہ ہو جاتی ہے تو وہ «ابْنُ مَخَاضٍ» ”ابن مخاض“ کہلاتا ہے، اگرچہ وہ حاملہ نہ ہو، جو «ابْنُ لَبُونٍ» ”ابن لبون“ نام رکھا گیا ہے وہ اس لیے کہ اس کی ماں دوسرے کو جنم دیتی ہے اور وہ دودھ اس کا ہو جاتا ہے۔