کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جنازوں میں آواز بلند کرنے کی کراہت اور اس مقدار کا بیان جس میں کراہت نہیں ہے
حدیث نمبر: 7182
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ " كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ رَفْعَ الصَّوْتِ عِنْدَ الْجَنَائِزِ وَعِنْدَ الْقِتَالِ وَعِنْدَ الذِّكْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن عباد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصحابِ رسول ﷺ رضی اللہ عنہم جنازے کے وقت، لڑائی کے وقت اور ذکر کے وقت آواز بلند کرنا ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 7183
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ فِي جِنَازَةِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ الْعِجْلِيُّ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّهُ لَيُعْجِبُنِي أَنِّي لَا أَسْمَعُ فِي الْجَنَائِزِ صَوْتًا. فَقَالَ " إِنَّ لِلْخَيْرِ أَهْلِينَ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمْ كَرِهُوا أَنْ يُقَالَ فِي الْجِنَازَةِ: اسْتَغْفِرُوا لَهُ غَفَرَ اللهُ لَكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
اسود بن شیبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حسن رحمہ اللہ، نصر بن انس رحمہ اللہ کے جنازے میں تھے تو اشعث بن سلیم عجلی رحمہ اللہ نے کہا: ”اے ابوسعید! مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں جنازہ میں کوئی آواز نہ سنوں۔“ تو انہوں نے کہا: ”تو خیر کا ہی اہل ہے۔“
سعید بن مسیب، حسن بصری، سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ نے ناپسند کیا ہے کہ جنازہ میں یہ کہا جائے: ”اس کے لیے استغفار کرو، اللہ تمہیں معاف کرے۔“
سعید بن مسیب، حسن بصری، سعید بن جبیر اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ نے ناپسند کیا ہے کہ جنازہ میں یہ کہا جائے: ”اس کے لیے استغفار کرو، اللہ تمہیں معاف کرے۔“