کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: میت کی تعریف کرنے اور اس میں موجود بھلائی کا ذکر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7184
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: مَرُّوا بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَجَبَتْ " ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ: " وَجَبَتْ " فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " هَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ خَيْرًا فَوَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَهَذَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِ شَرًّا فَوَجَبَتْ لَهُ النَّارُ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ ایک جنازے کے ساتھ آپ ﷺ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس کی اچھی تعریف کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «وَجَبَتْ» ”واجب ہوگئی۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا واجب ہوگئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی تم نے اچھائی بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس کی برائی بیان کی اس پر دوزخ واجب ہوگئی اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7184
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 7185
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَثْنُوا عَلَيْهِ " فَقَالُوا: كَانَ فِيمَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ: " وَجَبَتْ " قَالَ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ: " أَثْنُوا " عَلَيْهِ فَقَالُوا: بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللهِ، فَقَالَ: " وَجَبَتْ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو انہوں نے اس کی تعریف کی، انہوں نے کہا: ہم جانتے ہیں کہ وہ اللہ اور رسول سے محبت کرتا تھا، یعنی اس کی اچھی تعریف کی۔ پھر آپ ﷺ کے پاس سے دوسرا جنازہ گزرا تو اس کے بارے میں لوگوں نے بری بات کہی کہ وہ اللہ کے دین کے ساتھ اچھا نہیں تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر واجب ہو گئی اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7185
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 7186
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنبأ عَفَّانُ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَمَرَّتْ بِهِمْ جِنَازَةٌ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ. ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثِ فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا شَرًّا فَقَالَ عُمَرُ: ⦗١٢٦⦘ وَجَبَتْ. فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ فَقُلْتُ: مَا وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ " قَالَ: قُلْنَا وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: " وَثَلَاثَةٌ " قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: " وَاثْنَانِ "، قَالَ: لَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: قَالَ عَفَّانُ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالاسود دیلی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ کی طرف نکلا اور وہاں بیماری تھی تو میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا، تو ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اس کی اچھی تعریف کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر دوسرا جنازہ گزرا اس کی اچھائی بیان کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ پھر تیسرا جنازہ گزرا تو اس کی برائی بیان کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”واجب ہوگئی۔“ ابوالاسود کہتے ہیں: میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے کہا: میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی پوچھا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان کے لیے چار بندے اس کی بھلائی (نیکی) کی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے۔“ ہم نے کہا: اگر تین ہوں؟ تو انہوں نے کہا: ”تین بھی۔“ ہم نے کہا: دو ہوں؟ تو انہوں نے کہا: ”دو بھی۔“ پھر ہم نے ایک کے بارے میں نہ پوچھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7186
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»