کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے موت کی خبر دینے اور اعلان کرنے کو مکروہ سمجھا ہے اور اس مقدار کا بیان جس میں کراہت نہیں ہے
حدیث نمبر: 7179
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا حَبِيبٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ الْعَبْسِيَّ، ثنا بِلَالٌ الْعَبْسِيُّ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ إِذَا كَانَتْ فِي أَهْلِهِ جِنَازَةٌ لَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَحَدًا وَيَقُولُ: " إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ نَعْيًا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النَّعْيِ " ⦗١٢٤⦘ وَيُرْوَى فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ ثُمَّ عَنْ عَلْقَمَةَ، وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَالرَّبِيعِ بْنِ خَيْثَمٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَبَلَغَنِي عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَا أُحِبُّ الصِّيَاحَ لِمَوْتِ الرَّجُلِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ وَلَوْ وَقَفَ عَلَى حِلَقِ الْمَسَاجِدِ فَأَعْلَمَ النَّاسِ بِمَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ بِهِ بَأْسٌ وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى جَعْفَرًا وَزَيْدًا وَابْنَ رَوَاحَةَ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ وَعَنْهُ فِي مَوْتِ الْإِنْسَانِ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ وَدُفِنَ لَيْلًا أَفَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي وَفِي رِوَايَةٍ مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي؟.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر دی۔ ایسے ہی اس آدمی کی خبر جو مسجد کی دیکھ بھال کرتا تھا اور رات کو دفن کر دیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟“ ایک روایت میں ہے کہ: ”تم کو کس نے روکا کہ تم مجھے آگاہ کرو؟“
مالک بن انس رحمہ اللہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کسی کی موت کی وجہ سے مسجد کے دروازے پر چیخنا مجھے پسند نہیں ہے۔ اگر مسجد کے حلقوں میں اعلان کیا اور لوگوں کو اطلاع دے دی تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان سے یہ بھی نقل کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر، زید اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی موت کا اعلان کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر دی۔
مالک بن انس رحمہ اللہ سے نقل کیا گیا ہے کہ کسی کی موت کی وجہ سے مسجد کے دروازے پر چیخنا مجھے پسند نہیں ہے۔ اگر مسجد کے حلقوں میں اعلان کیا اور لوگوں کو اطلاع دے دی تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ان سے یہ بھی نقل کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جعفر، زید اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی موت کا اعلان کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے نجاشی کی موت کی خبر دی۔
حدیث نمبر: 7180
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ الْوَاشِحِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، مَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَأُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فَأُخْبِرَ بِمَوْتِهِ، فَقِيلَ لَهُ مَا تَرَى أَيُخْرَجُ بِجِنَازَتِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ: " إِنَّ مِثْلَ رَافِعٍ لَا يُخْرَجُ بِهِ حَتَّى يُؤْذَنَ بِهِ مَنْ حَوْلِنَا مِنَ الْقُرَى فَأَصْبِحُوا وَاخْرُجُوا بِجِنَازَتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن رافع اپنی دادی سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ عصر کے بعد فوت ہوئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کی موت کی خبر دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ کیا خیال ہے ان کا جنازہ بھی نکالا جائے؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رافع جیسے آدمیوں کا جنازہ نہیں نکالا جا سکتا جب تک قریب کی بستیوں میں اعلان نہ کر دیا جائے، تو پھر صبح کے وقت جنازہ اٹھایا گیا۔
حدیث نمبر: 7181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كُنَّا مَقْدِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضَرَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى إِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ وَرُبَّمَا قَعَدَ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ، وَرُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ عَلَيْهِ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ: لَوْ كُنَّا لَا نُؤْذِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدٍ حَتَّى يُقْبَضَ فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ مَشَقَّةٌ وَلَا حَبْسٌ فَفَعَلْنَا ذَلِكَ فَكُنَّا نُؤْذِنُهُ بِالْمَيِّتِ بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ فَيَأْتِيَهُ وَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَرُبَّمَا انْصَرَفَ وَرُبَّمَا مَكَثَ حَتَّى يُدْفَنَ الْمَيِّتُ فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حِينًا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ لَمْ نُشْخِصِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلْنَا جِنَازَتَنَا إِلَيْهِ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عِنْدَ بَيْتِهِ لَكَانَ ذَلِكَ أَرْفَقَ بِهِ فَفَعَلْنَا فَكَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ إِلَى الْيَوْمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ سے آگے ہوئے، جب کوئی میت آتی تو ہم آپ ﷺ کو اطلاع کرتے۔ پھر آپ ﷺ آتے اور اس کے لیے استغفار کرتے۔ جب وہ فوت ہوجاتا تو آپ ﷺ اور آپ کے ساتھی نہ جاتے جب تک اسے دفن نہ کردیا جاتا۔ کبھی آپ ﷺ اس کے دفن ہونے تک بیٹھ جاتے اور کبھی آپ ﷺ کا یہ ٹھہرنا زیادہ ہوجاتا۔ جب ہم آپ ﷺ کی مشقت سے ڈرے تو کچھ نہ کہا کہ کیوں نہ ہم آپ ﷺ کو تب اطلاع کریں جب آدمی فوت ہوجائے، پھر جب وہ فوت ہوجاتا تو ہم آپ ﷺ کو اطلاع کرتے اور اس میں آپ ﷺ کو مشقت نہ ہوتی اور نہ ہی آپ ﷺ کو زیادہ رکنا پڑتا، پھر ہم آپ ﷺ کو میت کے فوت ہونے کے بعد اطلاع دیتے۔ آپ ﷺ آتے اور جنازہ پڑھتے، کبھی آپ ﷺ چلے جاتے اور کبھی میت کے دفن تک رک جاتے۔ پھر ہم ایسے ہی کرتے رہے۔ پھر ہم نے کہا: اگر ہم آپ ﷺ کو زحمت نہ دیں اور جنازہ اٹھا کر آپ ﷺ کی طرف لے جائیں اور آپ ﷺ گھر کے پاس ہی اس کا جنازہ پڑھیں تو یہ آپ ﷺ کے لیے زیادہ آسان ہوگا۔ پھر ہم نے ایسا ہی کیا اور وہ معاملہ آج تک ایسے ہی ہے۔