کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ نماز جنازہ پڑھانے کا وصی زیادہ حق دار ہے بشرطیکہ میت نے اس کے لیے وصیت کی ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي عَبْدَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: " مَاتَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَظُنُّهَا مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَوْصَتْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ "، ⦗٤٧⦘ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوْصَتْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا سِوَى الْإِمَامِ وَهَذَا أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
محارب بن دثار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین فوت ہوئیں، میرا گمان ہے کہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں، تو انہوں نے وصیت کی کہ نمازِ جنازہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ پڑھائیں۔
سفیان ثوری نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے محارب بن دثار سے روایت کیا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ ان کی نمازِ جنازہ امیر کے علاوہ کوئی اور پڑھائے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
سفیان ثوری نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے محارب بن دثار سے روایت کیا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ ان کی نمازِ جنازہ امیر کے علاوہ کوئی اور پڑھائے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَوْصَى " إِذَا أَنَا مِتُّ يُصَلِّي عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وصیت کی کہ جب میں فوت ہو جاؤں تو میرا جنازہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ پڑھائیں۔
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ خُزَاعِيٍّ، مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَوْصَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ قَالَ: " لِيَلِيَنِي أَصْحَابِي وَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ ابْنُ زِيَادٍ "، قَالَ: فَوَلِيَهُ أَبُو بَرْزَةَ، وَعَائِذُ بْنُ عَمْرٍو وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
خزاعی بن عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے میرے ساتھی ملیں اور میرا جنازہ ابن زیاد نہ پڑھائے، کہتے ہیں کہ ان کے سرپرست ابو برزہ اور عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ تھے۔