السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من قال الوصي بالصلاة عليه أولى إن كان قد أوصى بها إليه باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ نماز جنازہ پڑھانے کا وصی زیادہ حق دار ہے بشرطیکہ میت نے اس کے لیے وصیت کی ہو
حدیث نمبر: 6900
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ خُزَاعِيٍّ، مِنْ وَلَدِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَوْصَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ قَالَ: " لِيَلِيَنِي أَصْحَابِي وَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ ابْنُ زِيَادٍ "، قَالَ: فَوَلِيَهُ أَبُو بَرْزَةَ، وَعَائِذُ بْنُ عَمْرٍو وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
خزاعی بن عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے میرے ساتھی ملیں اور میرا جنازہ ابن زیاد نہ پڑھائے، کہتے ہیں کہ ان کے سرپرست ابو برزہ اور عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ لوگ تھے۔