السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من قال الوصي بالصلاة عليه أولى إن كان قد أوصى بها إليه باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ نماز جنازہ پڑھانے کا وصی زیادہ حق دار ہے بشرطیکہ میت نے اس کے لیے وصیت کی ہو
حدیث نمبر: 6898
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي عَبْدَانَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: " مَاتَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَظُنُّهَا مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَوْصَتْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ "، ⦗٤٧⦘ وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَوْصَتْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا سِوَى الْإِمَامِ وَهَذَا أَصَحُّ.حافظ ثناء اللہ
محارب بن دثار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین فوت ہوئیں، میرا گمان ہے کہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں، تو انہوں نے وصیت کی کہ نمازِ جنازہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ پڑھائیں۔
سفیان ثوری نے اسے عطاء بن سائب سے، انہوں نے محارب بن دثار سے روایت کیا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وصیت کی کہ ان کی نمازِ جنازہ امیر کے علاوہ کوئی اور پڑھائے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔