کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: جنازے کے ساتھ چلنے کے ابواب کا مجموعہ -- باب: جنازہ لے کر چلنے میں تیزی اختیار کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ تَكُنْ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، وَزُهَيْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنازے کے ساتھ جلدی چلو۔ اگر وہ نیک ہے تو وہ بھلائی ہے جس کی طرف تم اسے لے جا رہے ہو۔ اگر اس کے سوا ہے تو وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارو گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6844
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنبأ سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ أَنْ لَا تَضْرِبُوا عَلَى قَبْرِي فُسْطَاطًا، وَلَا تَتَّبِعُونِي بِمِجْمَرٍ وَأَسْرِعُوا بِي أَسْرِعُوا بِي، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا وُضِعَ الْمُؤْمِنُ عَلَى سَرِيرِهِ يَقُولُ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِذَا وُضِعَ الْكَافِرُ عَلَى سَرِيرِهِ قَالَ: يَا وَيلَتَاهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن مہران بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی موت کے وقت وصیت کی کہ میری قبر پر خیمہ نصب نہ کرنا اور نہ ہی آگ لے کر پیچھے چلنا اور مجھے جلدی لے جانا۔ بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب مومن اپنی چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو، آگے لے چلو، اور جب کافر کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے افسوس! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6845
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه احمد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ فَحَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَتَاهُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ صُعِقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَغَيْرُهُ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جنازہ رکھا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنی گردنوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو، مجھے آگے لے چلو۔ اگر وہ نیک نہ ہو تو میت کہتی ہے: ہائے افسوس! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ اس کی آواز کو سوائے انسان کے ہر کوئی سنتا ہے۔ اگر انسان اسے سن لے تو ہلاک ہو جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6846
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا عُيَيْنَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ فِي جِنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، فَجَعَلَ زِيَادٌ وَرِجَالٌ مِنْ مَوَالِيهِ يَمْشُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ أَمَامَ السَّرِيرِ، يَقُولُونَ رُوَيْدًا رُوَيْدًا بَارَكَ اللهُ فِيكُمْ، قَالَ: فَلَحِقَهُمْ أَبُو بَكْرَةَ فِي بَعْضِ سِكَّةِ الْمِرْبَدِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِمُ الْبَغْلَةَ وَشَدَّ عَلَيْهِمْ بِالسَّوْطِ وَقَالَ: " خَلُّوا وَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، لَقَدْ رَأَيْتُنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ لَنَكَادُ أَنْ نَرْمُلَ بِهَا رَمَلًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَوَكِيعٌ، وَخَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُيَيْنَةَ وَخَالَفَهُمْ شُعْبَةُ، عَنْ عُيَيْنَةَ، فَقَالَ: فِي جِنَازَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عبدالرحمن اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھا کہ ان کے غلاموں میں سے کچھ لوگ ان کے پیچھے چلنے لگے، چارپائی کے آگے آگے اور وہ کہہ رہے تھے: اللہ تم میں برکت پیدا کرے، ٹھہر ٹھہر کر۔ وہ کہتے ہیں: ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مربد کی گلیوں میں ملے اور کوڑے کے ساتھ اپنے خچر کو ان کی طرف دوڑایا اور کہا: اس کا راستہ چھوڑ دو۔ مجھے اس ذات کی قسم جس نے ابوالقاسم ﷺ کے چہرے کو عزت بخشی! البتہ تحقیق ہم دیکھتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہم (جنازہ لے کر) دوڑتے ہوئے جاتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6847
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه الطيالسي»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ كَانَ فِي جِنَازَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، وَكُنَّا نَمْشِي مَشْيًا خَفِيفًا فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ فَرَفَعَ سَوْطَهُ قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ نَرْمُلُ رَمَلًا ".
حافظ ثناء اللہ
عیینہ بن عبد الرحمن اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے جنازے میں تھے اور ہم آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ ہم ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے ملے، انھوں نے اپنا کوڑا اٹھایا اور کہا: ”ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ دوڑتے ہوئے چلتے تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6848
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابو داؤد»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا يَحْيَى الْجَابِرُ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ، قَالَ: " السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا يُعَجَّلُ إِلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ يَقْدَمُهَا " هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَابِرُ ضَعِيفٌ، وَأَبُو مَاجِدٍ، وَقِيلَ أَبُو مَاجِدٍ مَجْهُولٌ وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ، ⦗٣٤⦘ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ لَمَّا احْتُضِرَ حَضَرَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَهُمَا إِذَا حَمَلْتُمْ فَأَسْرِعُوا بِي أَسْرِعُوا بِي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم ﷺ سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ چلنا عام چلنے کے سوا ہے۔ اگر وہ نیک ہے تو اس کی طرف جلدی لے جایا جائے گا اور (اگر) اس کے علاوہ ہے تو پھر جہنمیوں کے لیے دوری ہو۔ جنازے کے پیچھے چلا جاتا ہے، وہ پیچھے نہیں چلتا اور کوئی اس کے آگے چلنے والا نہیں ہوتا۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے اور کہنے لگے کہ جب تم جنازہ اٹھاتے ہو تو وہ کہتا ہے: ”مجھے جلدی لے چلو، جلدی لے چلو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6849
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أبو داؤد»