السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
جماع أبواب المشي بالجنازة -- باب: الإسراع في المشي بالجنازة باب: جنازے کے ساتھ چلنے کے ابواب کا مجموعہ -- باب: جنازہ لے کر چلنے میں تیزی اختیار کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا يَحْيَى الْجَابِرُ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ، قَالَ: " السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا يُعَجَّلُ إِلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَا تَتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ يَقْدَمُهَا " هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَابِرُ ضَعِيفٌ، وَأَبُو مَاجِدٍ، وَقِيلَ أَبُو مَاجِدٍ مَجْهُولٌ وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ، ⦗٣٤⦘ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ لَمَّا احْتُضِرَ حَضَرَهُ ابْنُ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَهُمَا إِذَا حَمَلْتُمْ فَأَسْرِعُوا بِي أَسْرِعُوا بِي.سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے نبی کریم ﷺ سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ چلنا دوڑنے سے کم ہے۔ اگر وہ نیک ہے تو اس کی طرف جلدی لے جایا جائے گا اور (اگر) اس کے علاوہ ہے تو پھر جہنمیوں کے لیے دوری ہو۔ جنازے کے پیچھے چلا جاتا ہے، وہ پیچھے نہیں چلتا اور جو اس کے آگے چلے وہ اس کے ساتھ نہیں۔“
یہ حدیث ضعیف ہے، یحییٰ بن عبداللہ الجابر ضعیف ہے اور ابو ماجد مجہول ہے، اور جو گزر چکا وہ کافی ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے، تو انہوں نے ان دونوں سے کہا: ”جب تم مجھے اٹھاؤ تو مجھے جلدی لے چلو، جلدی لے چلو۔“