کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان جو حدود کے نفاذ کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو
حدیث نمبر: 6829
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا فَأَمَرَ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا أَنْ يُحْسِنَ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا، فَأْتِنِي بِهَا، فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ؟ فَقَالَ: " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور وہ زنا سے حاملہ تھی، تو آپ ﷺ نے اس کے سرپرستوں کو اس کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب وہ وضع حمل کر لے تو اسے میرے پاس لاؤ۔“ تو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ آپ ﷺ نے حکم دیا اور اس کے کپڑوں کو اس پر باندھ دیا گیا، پھر اسے رجم کرنے کا حکم دیا گیا اور وہ رجم کر دی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اس کا جنازہ پڑھیں گے، حالانکہ اس نے زنا کیا ہے! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ پر تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان پر وافر ہو جائے، کیا تو نے کوئی چیز اس سے بہتر پائی ہے، یعنی توبہ میں اس نے اپنی جان قربان کر دی ہے؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6829
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 6830
وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ فِي قِصَّةِ الْغَامِدِيَّةِ الَّتِي رُجِمَتْ فِي الزِّنَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ بَشِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، اس غامدیہ کے قصے میں جسے زنا کی حد میں رجم کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اس توبہ کو ناجائز ٹیکس لینے والوں پر تقسیم کیا جاتا تو انہیں بھی معاف کر دیا جاتا۔“ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا، اس کا جنازہ پڑھا گیا اور دفن کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6830
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
حدیث نمبر: 6831
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: " لَمْ يُصَلِّ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَنْهَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ " ⦗٢٩⦘ وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَمَّا رَجَمَ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ قَالَ: " افْعَلُوا بِهَا مَا تَفْعَلُونَ بِمَوْتَاكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا نہ کی اور نہ ہی ادا کرنے سے منع کیا اور ہمیں علی بن طالب رضی اللہ عنہ سے یہ بیان کیا گیا کہ جب انہوں نے شراحہ ہمدانیہ رضی اللہ عنہا کو رجم کیا تو کہا: تم اس کے ساتھ وہی کچھ کرو جو اپنے فوت ہونے والوں کے ساتھ کرتے ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6831
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابو داؤد»