کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان لوگوں کا بیان جو ڈوبنے، دبنے یا جلنے کا شکار ہو جائیں اور ان میں مشرکین بھی شامل ہوں تو سلام میں ثابت شدہ حکم پر قیاس کرتے ہوئے ان سب پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور نماز سے مراد صرف مسلمان ہوں گے
حدیث نمبر: 6827
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: رَكِبَ عَلَى حِمَارٍ عَلَى إِكَافٍ عَلَى قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ، فَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَرَاءَهُ يَعُودُ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَبْلَ وَقْعَةِ بَدْرٍ، فَسَارَ حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عَبْدُ اللهِ، فَإِذَا فِي الْمَجْلِسِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالْيَهُودِ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ، فَلَمَّا ⦗٢٨⦘ غَشِيَتْهُمْ عَجَاجَةُ الدَّابَّةِ خَمَّرَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ أَنْفَهَ بِرِدَائِهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تُغَيِّرُوا عَلَيْنَا، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، وَوَقَفَ فَنَزَلَ فَدَعَاهُمْ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گدھے پر سوار ہوئے جس پر «قَطِيفَةٍ فَدَكِيَّةٍ» ”فدک کی مخملی چادر“ تھی اور ان کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ آپ ﷺ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی تیمار داری کے لیے واقعہ بدر سے قبل گئے تو آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ آپ ﷺ ایک مجلس سے گزرے، جس میں عبداللہ بن ابی بن سلول بیٹھا تھا، یہ بات اس کے اسلام لانے سے پہلے کی ہے جبکہ اس مجلس میں مسلمان اور مشرک ملے جلے تھے اور بتوں کی پوجا کرنے والے اور یہودی بھی تھے اور اس میں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب انہیں گدھے کے اڑائے ہوئے غبار نے ڈھانپا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک کو ڈھانپ لیا، پھر اس نے کہا: ہم پر گرد و غبار نہ اڑاؤ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو سلام کیا اور رک گئے۔ اپنی سواری سے اترے اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دی اور قرآن کریم کی تلاوت کی اور پوری حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 6828
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِمَجْلِسٍ فِيهِ أَخْلَاطٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ، وَالْمُشْرِكِينَ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک مجلس کے پاس سے گزرے، جس میں مسلم، مشرک، یہودی اور بتوں کی پوجا کرنے والے تھے تو آپ ﷺ نے انہیں سلام کہا۔