کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان جس نے خودکشی کو حلال سمجھے بغیر اپنی جان لی ہو
حدیث نمبر: 6832
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو رَوْقٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ بِالْبَصْرَةِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَصَلُّوا عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ " قَالَ عَلِيٌّ: مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَنْ دُونَهُ ثِقَاتٌ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَالصَّلَاةِ عَلَى مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ غَايَةَ الضَّعْفِ، وَأَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِرْسَالًا كَمَا ذَكَرَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نماز پڑھو ہر نیک اور بد کے پیچھے اور ہر بد اور نیک کا جنازہ ادا کرو اور ہر نیک و بد کے ساتھ جہاد کرو۔“
شیخ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ کے بارے میں کہ ہر نیک و فاجر کی نماز جنازہ ہے اور ہر اس شخص کی جس نے کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔
شیخ کہتے ہیں کہ نماز جنازہ کے بارے میں کہ ہر نیک و فاجر کی نماز جنازہ ہے اور ہر اس شخص کی جس نے کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“۔
حدیث نمبر: 6833
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَا: ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهَ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ، وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ مَاتَ، قَالَ: " مَا يُدْرِيكَ "، قَالَ: إِنَّهُ صِيحَ عَلَيْهِ، قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ "، ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ، فَرَآهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ مَاتَ، فَقَالَ: " مَا يُدْرِيكَ "، قَالَ رَأَيْتُهُ نَحَرَ نَفْسَهَ بِمَشَاقِصَ، قَالَ: " إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَوْنِ بْنِ سَلَّامٍ مُخْتَصَرًا، وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيِّ أَنَّهُ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِيُحَذِّرَ النَّاسَ بِتَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَلَا يَرْتَكِبُوا كَمَا ارْتَكَبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایسے شخص کو لایا گیا جس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا تھا تو آپ ﷺ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہو گیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: وہ شخص (مریض) فوت ہو گیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فوت نہیں ہوا۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا تاکہ وہ دیکھے، تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبح کر لیا ہے۔ پھر وہ چلا گیا تاکہ آپ ﷺ کو خبر دے کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ تو اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“
احمد بن یونس ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیمار ہو گیا اور لوگ اس پر چیخے، ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: وہ شخص (مریض) فوت ہو گیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فوت نہیں ہوا۔“ پھر وہ آدمی چلا گیا تاکہ وہ دیکھے، تو اس نے دیکھا کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ ذبح کر لیا ہے۔ پھر وہ چلا گیا تاکہ آپ ﷺ کو خبر دے کہ وہ فوت ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیسے علم ہوا؟“ تو اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے کو تیر کے ساتھ قتل کیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو میں اس کا جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“