کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جو میدانِ جنگ سے زخمی حالت میں لایا جائے، یا جو کفار کے میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور ظلماً قتل کر دیا جائے، اور اس شخص کا بیان جس کی تلوار خود اسی کو لگ جائے
حدیث نمبر: 6817
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَنِي شَدَّادُ بْنُ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ وَاتَّبَعَهُ فَقَالَ: أُهَاجِرُ مَعَكَ فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ خَيْبَرَ غَنِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ، فَأَعْطَى أَصْحَابَهَ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهَمْ، فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: قَسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ: " قَسْمٌ قَسَمْتُهُ لَكَ "، قَالَ: مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِ اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى هَهُنَا وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ: " إِنْ تَصَدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ "، ثُمَّ ⦗٢٤⦘ نَهَضُوا إِلَى قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يُحْمَلُ وَقَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ هُوَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " صَدَقَ اللهَ فَصَدَقَهُ "، فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي جُبَّتِهِ، ثُمَّ قَدَّمَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، فَكَانَ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ، قُتِلَ شَهِيدًا، أَنَا عَلَيْهِ شَهِيدٌ " قَالَ عَطَاءٌ: " وَزَعَمُوا أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ " قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ جُرَيْجٍ يَذْكُرُهُ، عَنْ عَطَاءٍ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الرَّجُلُ بَقِيَ حَيًّا حَتَّى انْقَطَعَتِ الْحَرْبُ، ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ بِأُحُدٍ مَاتُوا قَبْلَ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا۔ وہ ایمان لایا اور آپ ﷺ کی اتباع کی اور اس نے کہا کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کروں گا، تو آپ ﷺ نے اس کے متعلق اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو وصیت کی۔ سو جب غزوہ خیبر ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو غنیمت کا مال ملا تو آپ ﷺ نے اسے تقسیم کیا اور اس کے لیے بھی تقسیم کی اور اس کا حصہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا اور وہ ان کے بعد ان کی حفاظت کیا کرتا تھا۔ سو جب وہ آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہ حصہ اسے دیا تو اس نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ تقسیم کا مال ہے جو آپ ﷺ نے تیرے لیے تقسیم کیا ہے۔ اس نے وہ لیا اور نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیوں نہ مجھے حلق میں تیر مارا گیا، وہ مجھے مار دیتا اور میں جنت میں داخل ہو جاتا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”«إِنْ تَصْدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ» اگر تو نے اللہ کی تصدیق کی ہے تو وہ تیری تصدیق کرے گا۔“ پھر وہ دشمن سے لڑنے کے لیے آئے، پھر اسے نبی کریم ﷺ کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور اسے تیر وہیں لگا تھا جہاں اس نے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہی ہے؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے سچا ثابت کر دیا۔“ تو آپ ﷺ نے اسے اس کے لباس میں ہی کفن دیا۔ پھر اسے آگے کیا اور آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور یہ ان میں سے ہے جن کے لیے نماز جنازہ میں واضح دعا کی: «اللّٰهُمَّ هٰذَا عَبْدُكَ، خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيْلِكَ، فَقُتِلَ شَهِيْدًا، أَنَا شَهِيْدٌ عَلَى ذٰلِكَ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری راہ میں مہاجر بن کر نکلا ہے اور یہ شہادت کی موت مرا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں۔“
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا کہ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا اور جو پہلے فوت ہوئے ان کا جنازہ نہیں پڑھا۔
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ عطاء نے کہا کہ اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھا اور جو پہلے فوت ہوئے ان کا جنازہ نہیں پڑھا۔
حدیث نمبر: 6818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا: " انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ هَنَاتِكَ فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ:.
حافظ ثناء اللہ
ابو الہیثم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک ان کے باپ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جو آپ ﷺ نے خیبر کی طرف جاتے ہوئے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کو فرمایا اور اکوع کا نام سنان ہے: ”اے ابن اکوع! اتر اور ہمارے لیے اپنی آواز میں حدی کر۔“ سو وہ اترے اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اشعار کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ سو تو ہم پر سکینہ نازل فرما۔ اگر ہم دشمن سے ملیں تو ہمیں ثابت قدم فرما۔ بیشک کافروں کی اولاد نے ہمارے ساتھ بغاوت کی ہے، اگر وہ ہم سے شرک و کفر کی امید رکھتے ہیں تو ہم اس کے انکاری ہیں۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور آپ ﷺ کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔
رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور آپ ﷺ کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔
حدیث نمبر: 6819
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ " زَادَ فِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " وَحُنِّطَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، انہیں غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
حدیث نمبر: 6820
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنُ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: " كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " فَصَنَعَ لَهُ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَوَجَأَهُ عَلَى كَتِفِهِ، وَوَجَأَهُ عَلَى مَكَانٍ آخَرَ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ، فَسَقَطَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " وَقَدْ مَضَى فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ فِي قِصَّةِ قَتْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طَعَنَهُ، قَالَ: فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّكِّينِ ذَاتِ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ. وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ قُتِلَ بِمِحْدَدٍ ثُمَّ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت ابو رافع سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور آگے پوری حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں: اس نے ان کے لیے دو سروں والا خنجر تیار کیا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو اس نے ان کے کندھے پر وار کیا، پھر دوسری جگہ وار کیا اور خنجر ان کے پہلو میں اتار دیا تو عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے۔
ثابت کی حدیث میں قتل عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ گزر چکا ہے کہ مجوسی نے ان پر خنجر سے وار کیا اور پھر وہ جس کے پاس سے بھی گزرتا تو وہ دائیں بائیں والوں کو خنجر مارتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پھر غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور جنازہ پڑھا گیا۔
ثابت کی حدیث میں قتل عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ گزر چکا ہے کہ مجوسی نے ان پر خنجر سے وار کیا اور پھر وہ جس کے پاس سے بھی گزرتا تو وہ دائیں بائیں والوں کو خنجر مارتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پھر غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور جنازہ پڑھا گیا۔
حدیث نمبر: 6821
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ الْحَسَنَ: صَلَّى عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی۔
حدیث نمبر: 6822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَ قَتْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: وَجَاءَ كِتَابُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنْ يُدْفَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَسْمَاءَ: فَغَسَّلَتْهُ وَكَفَّنَتْهُ وَحَنَّطَتْهُ، ثُمَّ دَفَنَتْهُ قَالَ أَيُّوبُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: فَمَا عَاشَتْ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ مَاتَتْ زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ وَصَلَّتْ عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل ہونے کے بعد گیا۔ وہ کہتے ہیں: عبدالملک کا خط آیا، اس نے کہا: اس کی میت ان کے اہل کے حوالے کر دو۔ میں اسے لے کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، پھر دفن کر دیا گیا۔ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ اس کے بعد وہ صرف تین دن زندہ رہیں۔