کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: باغیوں کی تلوار سے مقتول ہونے والے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان
حدیث نمبر: 6823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَاشِمِيُّ، بِحَلَبَ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، يَقُولُ: قَالَ عَمَّارٌ: " ادْفِنُونِي فِي ثِيَابِي فَإِنِّي مُخَاصِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے میرے ہی کپڑوں میں دفن کرنا؛ کیونکہ میں لڑائی کرنے والوں میں سے ہوں۔“
حدیث نمبر: 6824
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَقَبِيصَةُ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ: " لَا تَغْسِلُوا عَنِّي دَمًا وَلَا تَنْزِعُوا عَنِّي ثَوْبًا إِلَّا الْخُفَّيْنِ وَأَرْمِسُونِي فِي الْأَرْضِ رَمْسًا، فَإِنِّي رَجُلٌ مُحَاجٌ " زَادَ أَبُو نُعَيْمٍ أُحَاجُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَذَا قَالَ عَمَّارٌ، وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عیزار بن حریث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن صوحان رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خون نہ دھونا اور موزوں کے سوا میرا لباس نہ اتارنا اور مجھے زمین میں دفن کر دینا، بے شک میں لڑائی کرنے والا ہوں۔
حدیث نمبر: 6825
وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَشْعَثَ أَنَّهُ ⦗٢٧⦘ أَخْبَرَهُمْ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا صَلَّى عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَهَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ فَجَعَلَ عَمَّارًا مِمَّا يَلِيهِ وَهَاشِمًا أَمَامَهُ فَلَمَّا أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ جَعَلَ عَمَّارًا أَمَامَهُ وَهَاشِمًا مِمَّا يَلِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر اور ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ پڑھی، عمار کو اپنے پاس رکھا اور ہاشم کو ان سے آگے، سو جب قبر میں اتارا تو پہلے عمار کو اور پھر ہاشم کو اتارا جو ان کے پاس تھا۔