کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے یہ مستحب قرار دیا ہے کہ شہید کو انہی کپڑوں میں کفنایا جائے جن میں اسے شہید کیا گیا البتہ اس کے جسم سے لوہا، چمڑا اور وہ چیزیں اتار لی جائیں گی جو لوگوں کا عام لباس نہیں ہوتیں
حدیث نمبر: 6811
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاتِمٍ الدَّارَبَرْدِيُّ بِمَرْوٍ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " رُمِيَ رَجُلٌ فِي صَدْرِهِ أَوْ فِي حَلْقِهِ، فَمَاتَ فَأُدْرِجَ كَمَا هُوَ فِي ثِيَابِهِ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله علَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کے سینے یا حلق میں تیر لگا جس سے وہ فوت ہو گیا، تو اسے انہیں کپڑوں میں دفن کیا گیا جن میں وہ تھا اور تب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6811
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6812
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنبأ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَأَنْ يُدْفَنُوا بِدِمَائِهِمْ وَثِيَابِهِمْ " وَقَدْ مَضَى فِي الرُّخْصَةِ فِي تَكْفِينِهِ فِي غَيْرِ ثِيَابِهِ الَّتِي قُتِلَ فِيهَا حَدِيثُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَمُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہدائے احد کے بارے میں حکم دیا کہ ”ان سے لوہا اور چمڑا اتار لیا جائے اور انھیں ان کے کپڑوں اور خون سمیت دفن کیا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6812
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6813
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، أنبأ أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِطَعَامٍ فَقَالَ: " قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ هَاشِمٍ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي، وَقُتِلَ حَمْزَةُ، أَوْ رَجُلٌ آخَرُ فَلَمْ يُوجَدْ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
یعقوب بن ابراہیم بن سعد اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا تو انہوں نے کہا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ قتل کیے گئے تو کوئی چیز نہ پائی گئی کہ جس میں انہیں کفن دیا جاتا، سوائے ایک چادر کے اور وہ مجھ سے بہتر تھے اور حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے اور کوئی ایسی چیز نہ پائی گئی جس میں انہیں کفن دیا جاتا سوائے ایک چادر کے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6813
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»