کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: عورت کے سر کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنانے اور انہیں اس کی پیٹھ پیچھے ڈال دینے کی ثابت شدہ سنت کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ يَعْنِي حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ". قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ، قَالَتْ: فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ "، قَالَتْ: فَضَفَرْنَا رَأْسَهَا نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا. ⦗٩⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی فوت ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے طاق عدد تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا، اگر تم کچھ ضرورت محسوس کرو تو اس سے بھی زیادہ کر لینا اور آخر میں کافور یا کافور جیسی کوئی چیز ملانا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا۔“ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے ہماری طرف ایک چادر پھینکی اور فرمایا: ”یہ اسے پہناؤ۔“ وہ کہتی ہیں: پھر ہم نے اس کے سر کے بالوں کو، پیشانی اور دونوں اطراف کے بالوں کو، تین مینڈھیوں میں گوندھا اور انہیں اس کے پیچھے ڈال دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6767
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَجَعْفَرُ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نے تین مینڈھیوں میں اس کے سر کو تقسیم کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6768
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ أَبِي تَمِيمَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ: " إنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " وَقَالَ: نَقَضْنَهُ فَغَسَلْنَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَزَادَ: " ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیٹی کے سر کو تین مینڈھیوں کے ساتھ تقسیم کیا اور کہا: انہیں ہم کھول کے دھو دیتی تھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں احمد اور ابن وہب رحمہما اللہ سے یہ الفاظ زیادہ کیے کہ ”پھر انہوں نے اس کی تین مینڈھیاں بنا دیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6769
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»