السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: السنة الثابتة في تضفير شعر رأسها ثلاثة قرون وإلقائهن خلفها باب: عورت کے سر کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنانے اور انہیں اس کی پیٹھ پیچھے ڈال دینے کی ثابت شدہ سنت کا بیان
حدیث نمبر: 6769
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَيُّوبَ بْنَ أَبِي تَمِيمَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ، تَقُولُ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ: " إنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " وَقَالَ: نَقَضْنَهُ فَغَسَلْنَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَزَادَ: " ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بیٹی کے سر کو تین مینڈھیوں کے ساتھ تقسیم کیا اور کہا: انہیں ہم کھول کے دھو دیتی تھیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں احمد اور ابن وہب رحمہما اللہ سے یہ الفاظ زیادہ کیے کہ ”پھر تم اس کی تین مینڈھیاں بنا دو۔“