السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: السنة الثابتة في تضفير شعر رأسها ثلاثة قرون وإلقائهن خلفها باب: عورت کے سر کے بالوں کی تین مینڈھیاں بنانے اور انہیں اس کی پیٹھ پیچھے ڈال دینے کی ثابت شدہ سنت کا بیان
حدیث نمبر: 6767
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَسِيدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ يَعْنِي حَفْصَةَ بِنْتَ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ". قَالَتْ: فَآذَنَّاهُ، قَالَتْ: فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، فَقَالَ: " أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ "، قَالَتْ: فَضَفَرْنَا رَأْسَهَا نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ، وَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ، عَنْ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا. ⦗٩⦘.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیٹی فوت ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے طاق عدد تین یا پانچ مرتبہ غسل دینا، اگر تم کچھ ضرورت محسوس کرو تو اس سے بھی زیادہ کر لینا اور آخر میں کافور یا کافور جیسی کوئی چیز ملانا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا۔“ وہ کہتی ہیں کہ جب ہم نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو آپ ﷺ نے ہماری طرف ایک چادر پھینکی اور فرمایا: ”یہ اسے پہناؤ۔“ وہ کہتی ہیں: پھر ہم نے اس کے سر کے بالوں کو، پیشانی اور دونوں اطراف کے بالوں کو، تین مینڈھیوں میں گوندھا اور انہیں اس کے پیچھے ڈال دیا۔