کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: قبر کو کشادہ اور گہرا کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جَاءَتِ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُ؟ قَالَ: " احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ " قَالُوا: أَيُّهُمْ يُقَدَّمُ فِي الْقَبْرِ؟ قَالَ: " أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا " قَالَ: فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيِ اثْنَيْنِ، أَوْ قَالَ: " وَاحِدٍ "..
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار رسول اللہ ﷺ کے پاس احد کے دن آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہمیں زخم پہنچے اور مشقت بھی۔ سو آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”گہرے اور کشادہ کھودو اور دو اور تین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرو۔“ انہوں نے کہا: قبر میں پہلے کسے رکھیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔“ وہ کہتے ہیں: میرے باپ کو دو یا ایک آدمی سے مقدم کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6751
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ يَعْنِي عَبْدَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ نَحْوَهُ. قَالَ: أَصَابَ الْأَنْصَارَ يَوْمَ أُحُدٍ قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: " احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا ". قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَأُرَاهُ قَالَ: " وَأَعْمِقُوا "، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: بَلْ هُوَ هَكَذَا.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن مغیرہ کہتے ہیں: غزوۂ احد میں انصار کو زخم بھی پہنچے اور مشقت بھی کرنی پڑی۔ انصاریوں نے یہ بات پیارے پیغمبر ﷺ کو بیان کی اور کہا کہ آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قبریں کشادہ بناؤ۔“ عبداللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں گہری کرو۔“ پھر عبداللہ نے کہا: بلکہ وہ بات ایسے ہی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6752
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلَى أُحُدٍ: " أَعْمِقُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے احد کے مقتولین کے متعلق فرمایا: ”ان کی قبروں کو گہرا اور اچھی طرح کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6753
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ المسلم»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اشْتَدَّ الْجِرَاحُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " احْفِرُوا، وَأَوْسِعُوا، وَأَحْسِنُوا، وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرٌ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سعد بن ہشام بن عامر اپنے والد (ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہِ احد میں سخت زخم آئے تو اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی گئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قبریں کشادہ کرو اور خوب بناؤ اور ایک قبر میں دو تین کو دفن کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6754
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابو داؤد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ، حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ وَأَنَا ⦗٥٨١⦘ غُلَامٌ مَعَ أَبِي، فَجَلَسَ عَلَى حُفْرَةِ الْقَبْرِ، وَجَعَلَ يَوْمِئُ إِلَى الْحَفَّارِ وَيَقُولُ: " أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرَّأْسِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ الرِّجْلَيْنِ، وَرُبَّ عِذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: " فَرَأَيْتُهُ عَلَى حَفِيرَةِ الْقَبْرِ جَالِسًا " فَقَالَ: " أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَرُبَّ عِذْقٍ لَهُ فِي الْجَنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
عاصم بن کلیب اپنے باپ سے اور وہ انصار کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے اور میں بچہ تھا جو اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ آپ ﷺ قبر کے گڑھے پر بیٹھ گئے اور گڑھا کھودنے والوں سے کہہ رہے تھے: ”سر کی طرف سے کشادہ کرو۔ پاؤں کی طرف سے کشادہ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔“
ابو عبداللہ کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے آپ کو قبر کے گڑھے پر بیٹھے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے سر کی جانب سے فراخ کرو، اس کے لیے جنت میں بہت سے خوشے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6755
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»