کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قبر (کے کام) سے فارغ ہونے یا دفنا دیے جانے کے بعد جو چاہے واپس چلا جائے، اور اس کا انتظار کرنے والے کے لیے اجر کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ الْجِنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ" وَقِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: " مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ"". انْتَهَى حَدِيثُ شَبِيبٍ، زَادَ ابْنَ وَهْبٍ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ يُونُسَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةَ، وَهَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَذَكَرَ الزِّيَادَةَ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ، وَهَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں حاضر ہوا اتنی دیر کہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے اس کے لیے ایک قیراط (بڑے پہاڑ کی مانند) اجر ہے۔“
سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازہ پڑھ کر پلٹ جایا کرتے تھے مگر انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا علم ہوا تو انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بہت سے قیراط ضائع کر دیے۔
سالم بن عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازہ پڑھ کر پلٹ جایا کرتے تھے مگر انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا علم ہوا تو انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بہت سے قیراط ضائع کر دیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ انْتَظَرَ حَتَّى يَفْرُغَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ ". قَالُوا: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: " مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَقَالَ: حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ فَقَالَ: " حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو دفن سے فارغ ہونے کے انتظار میں بیٹھا رہا اس کے لیے دو قیراط۔“ انہوں نے کہا: دو قیراط کیا ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ دو بڑے پہاڑوں کے مانند ہیں۔“
عبد الاعلیٰ بیان کرتے ہیں: یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوا جائے؛ معمر کہتے ہیں: حتیٰ کہ اسے لحد میں رکھ نہ دیا جائے۔
عبد الاعلیٰ بیان کرتے ہیں: یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوا جائے؛ معمر کہتے ہیں: حتیٰ کہ اسے لحد میں رکھ نہ دیا جائے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الذَّوْرَبِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَرَوَاهُ عَقِيلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ وَرَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ، وَالشَّعْبِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جس نے اس کے جنازے کی دفن ہونے تک اتباع کی“ اور دوسری حدیث میں ہے: ”جب تک اس سے فارغ نہ ہوا جائے (اتنی دیر ساتھ رہا اس کے لیے دو قیراط ہیں)۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٧٩⦘ الصِّدِّيقِ الْمَعْرُوفُ بِحُسَامٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مَعَ جِنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ "، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيخْبِرُهُ بِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصَاةِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ. فَأَكْثَرُ الرِّوَايَاتِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى الْفَرَاغِ وَالدَّفْنِ، إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَقَدْ خَالَفَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ، وَرُوِيَ مِثْلُ مَعْنَى رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جو کوئی جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے چلا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اسے دفن کر دیا گیا، اس کے لیے اجر و ثواب کے دو قیراط ہوں گے اور جس نے جنازہ پڑھا اور پلٹ آیا تو اس کے لیے ایک قیراط ہے جو احد پہاڑ کی مانند ہے۔“ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات کے متعلق پوچھ کر آئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے اپنے لیے بہت سے قیراط کی کمی کی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اکثر روایات دفن سے فارغ ہونے کی ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اکثر روایات دفن سے فارغ ہونے کی ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، وَبِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ قَالَا: ثنا يَحْيَى يَعْنِيَانِ ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَلَهُ قِيرَاطَانِ " قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، وَمَا الْقِيرَاطُ؟ قَالَ: مِثْلُ أُحُدٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَوَاهُ ثَوْبَانُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ چلا حتیٰ کہ اسے قبر میں رکھ دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔“
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، وَأَبَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نماز جنازہ ادا کی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس کے دفن میں شامل ہوا اس کے لیے دو قیراط ہیں، جو احد پہاڑ کے برابر ایک ہوگا۔“