السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: انصراف من شاء إذا فرغ من القبر أو إذا وري، وما في انتظاره ذلك له من الأجر باب: قبر (کے کام) سے فارغ ہونے یا دفنا دیے جانے کے بعد جو چاہے واپس چلا جائے، اور اس کا انتظار کرنے والے کے لیے اجر کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٧٩⦘ الصِّدِّيقِ الْمَعْرُوفُ بِحُسَامٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمَقْبُرِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ: " أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مَعَ جِنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ "، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيخْبِرُهُ بِمَا قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصَاةِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ. فَأَكْثَرُ الرِّوَايَاتِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى الْفَرَاغِ وَالدَّفْنِ، إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، وَقَدْ خَالَفَهُ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ، وَرُوِيَ مِثْلُ مَعْنَى رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جو کوئی جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے چلا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اسے دفن کر دیا گیا، اس کے لیے اجر و ثواب کے دو قیراط ہوں گے اور جس نے جنازہ پڑھا اور پلٹ آیا تو اس کے لیے ایک قیراط ہے جو احد پہاڑ کی مانند ہے۔“ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات کے متعلق پوچھ کر آئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے اپنے لیے بہت سے قیراط کی کمی کی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اکثر روایات دفن سے فارغ ہونے کی ہیں۔