کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قبروں کے لیے اذخر گھاس (استعمال کرنے) اور سوراخ بند کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي حَرَمِ مَكَّةَ، وَقَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا" قَالَ: فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ؛ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي مَسَاكِنِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ، إِلَّا الْإِذْخِرَ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحَيْنِ مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَصَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حرمِ مکہ کے بارے میں حدیث بیان کرتے ہیں اور نبی ﷺ کا یہ فرمانا کہ ”اس کے درخت کو نہ کاٹا جائے اور نہ ہی اس کے کانٹے کو نکالا جائے۔“ وہ کہتے ہیں: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مگر «إِلَّا الْإِذْخِرَ» ”مگر اذخر“ بیشک ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں ڈالتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مگر اذخر نہیں، مگر اذخر نہیں۔“
حدیث نمبر: 6726
وَرَوَى عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ، وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ، وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} [طه: ٥٥] بِسْمِ اللهِ، وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ "، فَلَمَّا بُنِيَ عَلَيْهَا لَحْدُهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْحُبُوبَ، وَيَقُولُ: " سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ " ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَلَكِنَّهُ يُطَيِّبُ نَفْسَ الْحِيِّ ". وَهَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ فَذَكَرَهُ. وَقَدْ رُوِيَ فِي سَدِّ الْفُرْجَةِ بِالْمَدَرَةِ، وَقَوْلُهُ: " أَمَا إِنَّهَا لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَكِنَّهَا تُقِرُّ بِعَيْنِ الْحِيِّ " عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ کو ان کی قبر میں رکھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ [سورة طه: 55] اور فرمایا: «بِسْمِ اللّٰهِ وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ» اور جب ان پر ان کی لحد بنائی گئی تو آپ ﷺ ان کی طرف کھجور کے گابے کو پھینک رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”اینٹوں کے خلال کو بند کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”لیکن یہ تو کچھ بھی نہیں مگر زندہ لوگوں کے دلوں کو اسی سے سکون ہوتا ہے۔“
اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خالی جگہ کو مٹی سے بند کرو“ اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”لیکن یہ تو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان لیکن اس سے زندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔“
اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خالی جگہ کو مٹی سے بند کرو“ اور آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”لیکن یہ تو نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان لیکن اس سے زندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتی ہیں۔“