حدیث نمبر: 6723
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي إِمْلَاءً ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ:: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ الْمُصَلُّونَ، مَنْ يُقِمِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ الَّتِي كُتِبْنَ عَلَيْهِ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ يَحْتَسِبُ صَوْمَهُ، يَرَى أَنَّهُ عَلَيْهِ حَقٌّ، وَيعْطِي زَكَاةَ مَالِهِ يَحْتَسِبُهَا، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ الَّتِي نَهَى الله عَنْهَا "، ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْكَبَائِرُ؟ فَقَالَ: " هُنَّ تِسْعٌ: الشِّرْكُ إِشْرَاكٌ بِاللهِ، وَقَتْلُ نَفْسِ مُؤْمِنٍ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا " ثُمَّ قَالَ: " لَا يَمُوتُ رَجُلٌ لَمْ يَعْمَلْ هَؤُلَاءِ الْكَبَائِرَ، وَيقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيؤْتِي الزَّكَاةَ، إِلَّا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارٍ أَبْوَابُهَا مَصَارِيعُ مِنْ ذَهَبٍ ". سَقَطَ مِنْ كِتَابِي أَوْ مِنْ كِتَابِ شَيْخِي " السِّحْرُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا: ”خبردار! اللہ کے دوست نمازی ہیں جو پانچوں نمازیں قائم کرتے ہیں جو ان پر فرض کی گئی ہیں، اور رمضان کے روزے رکھتے ہیں اجر و ثواب کی نیت سے، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ان پر فرض ہیں، اور اپنے مال کی زکات دیتے ہیں ثواب کی امید سے، اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔“ پھر ایک آدمی نے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کبیرہ گناہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نو (9) ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مومن کو بلاوجہ قتل کرنا، میدانِ جنگ سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، پاک دامن عورت پر تہمت لگانا، مسلم والدین کی نافرمانی کرنا اور بیتِ حرام کو حلال کرنا جبکہ وہ تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں مرتا وہ شخص جو یہ کبیرہ گناہ نہیں کرتا اور وہ نماز قائم کرتا ہے، زکات دیتا ہے تو ہوگا وہ اپنے گھر کے دروازے پر اپنے نبی ﷺ کے ساتھ جس کے دروازے کے پاٹ سونے کے ہوں گے۔“
حدیث نمبر: 6724
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَرُّوذِيُّ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ طَيْسَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ فِي أَصْلِ الْأَرَاكِ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَهُوَ يَنْضَحُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ وَوَجْهِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، حَدِّثْنِي عَنِ الْكَبَائِرِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْكَبَائِرُ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ " فَقُلْتُ: أَقَتْلُ الدَّمِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَرَغْمًا، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنَةِ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَإِلْحَادٌّ بِالْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا ".
حافظ ثناء اللہ
طبیلہ بن علی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: مجھے کبیرہ گناہوں کے بارے میں حدیث بیان کریں۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کبائر اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور پاکدامنہ پر تہمت لگانا ہے۔“ میں نے کہا: کیا کسی کو قتل کرنا (بھی کبیرہ گناہ ہے)؟ تو انہوں نے کہا: ”ہاں، تیرے نہ چاہنے پر بھی، اور مومن نفس کو قتل کرنا، میدانِ جنگ سے بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا اور بیت الحرام میں لڑائی کرنا، حالانکہ وہ تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے۔“
حسن، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کعبہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تو صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے زندوں کے قبلے کے طور پر نصب کیا ہے اور ہم اپنے مردوں کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
حسن، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کعبہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اللہ کی قسم! یہ تو صرف پتھر ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے زندوں کے قبلے کے طور پر نصب کیا ہے اور ہم اپنے مردوں کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔