کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ کی مخملی چادر (قطیفہ) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 6720
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: " أُدْخِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ "..
حافظ ثناء اللہ
ابو جمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر میں سرخ چٹائی داخل کی گئی۔
حدیث نمبر: 6721
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
وکیع رحمہ اللہ اسی معنی میں شعبہ رحمہ اللہ کی روایت سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 6722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " وَقَدْ كَانَ شُقْرَانُ حِينَ وُضِعَ ⦗٥٧٣⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُفْرَتِهِ أَخَذَ قَطِيفَةً قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا وَيَفْرِشُهَا فَدَفَنَهَا مَعَهُ فِي الْقَبْرِ، وَقَالَ: وَاللهِ لَا يَلْبَسُهَا أَحَدٌ بَعْدَكَ، فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". فَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ إِنْ كَانَتْ ثَابِتَةً دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُمْ لَمْ يَفْرِشُوهَا فِي الْقَبْرِ اسْتِعْمَالًا لِلسُّنَّةِ فِي ذَلِكَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک سرخ رنگ کا قطیفہ (کمبل) تھا اور جب رسول اللہ ﷺ کو قبر میں رکھا گیا تو اس کمبل (چٹائی) کو لایا گیا جسے آپ ﷺ پہنتے یا بچھاتے تھے اور اسے بھی آپ ﷺ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا گیا اور کہا گیا: ”اللہ کی قسم! آپ ﷺ کے بعد اسے کوئی نہیں پہن سکتا“، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ سو اس روایت میں اگر ثبوت ہے تو اس بات کا کہ قبر میں اسے نہیں بچھایا گیا، سنت کی اتباع کرتے ہوئے؛ یزید بن اصم، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ وہ قبر میں میت کے نیچے کپڑا بچھانے کو ناپسند کرتے تھے۔