أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ". ⦗٥٣٣⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى. وَقَالَ أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ " مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بیمار کی عیادت کی وہ جب تک واپس نہیں آتا وہ جنت کے میوے کھاتا رہتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ السِّنْدِيِّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ. وَرَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ فَقَالَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ: " حَتَّى يَرْجِعَ "، وَخَالَفَهُمَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ فِي إِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے مرفوع بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مریض کی عیادت کرنے والا جنت کے پھلوں میں ہوتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ عَاصِمٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَبَا قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ " فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا خُرْفَةُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " جَنَاهَا ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بِشْرَانَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَاصِمٍ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی مریض کی عیادت (تیمار داری) کے لیے جاتا ہے وہ ہمیشہ جنت کے باغیچوں میں ہوتا ہے۔“ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا: اے اللہ کے رسول! یہ «خُرْفَةِ الْجَنَّةِ» کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے پھل۔“
وَخَالَفَهُمَا شُعْبَةُ وَثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ، فَقَالَا: عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي خُرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ وَثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ فَذَكَرَهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الْأَشْعَثِ فِي إِسْنَادِهِ، وَرِوَايَةُ يَزِيدَ وَمَرْوَانَ أَصَحُّ، فَقَدْ رَوَاهُ أَبُو عَفَّانَ أَيْضًا عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مریض کی عیادت کرنے والا جنت کے پھلوں میں ہوتا ہے جب تک واپس نہ آجائے۔“
انہوں نے اس کی سند میں ابو الاشعث کا ذکر نہیں کیا، اور یزید اور مروان کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
انہوں نے اس کی سند میں ابو الاشعث کا ذکر نہیں کیا، اور یزید اور مروان کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشَّرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ⦗٥٣٤⦘ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ يُغْمَسُ فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مریض کی عیادت کی وہ ہمیشہ اللہ کی رحمت میں غوطہ زن رہتا ہے جب تک وہ بیٹھتا نہیں، جب بیٹھ جاتا ہے تو اس میں ڈبو دیا جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَعُودُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَعَائِدًا جِئْتَ أَمْ شَامِتًا؟ فَقَالَ: بَلْ عَائِدًا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَإِنْ كُنْتَ جِئْتَ عَائِدًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا أَتَى الرَّجُلُ أَخَاهُ يَعُودُهُ مَشَى فِي خُرَافَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسَ، فَإِذَا جَلَسَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَإِنْ كَانَ غُدْوَةً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنْ كَانَ عَشِيًّا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ ". وَخَالَفَهُ شُعْبَةُ فَرَوَاهُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّةً مَرْفُوعًا وَمَرَّةً مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عیادت کی غرض سے آئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تو عیادت کے لیے آیا ہے یا (ہماری تکلیف پر) خوش ہونے کے لیے؟ انہوں نے کہا: بلکہ عیادت کے لیے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو عیادت کی غرض سے آیا ہے تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان اپنے بھائی کی عیادت کے لیے آتا ہے وہ جنت کی پھلواڑیوں میں چلتا ہے حتیٰ کہ وہ بیٹھ جائے۔ جب بیٹھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے۔ اگر وہ صبح کے وقت گیا تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کی بخشش کی دعا کرتے ہیں۔ اگر رات کو جاتا ہے تو صبح ہونے تک ستر ہزار فرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَعُودُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَجِئْتَ عَائِدًا أَمْ زَائِرًا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: جِئْتُ عَائِدًا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا بُكْرَةً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ مَرْفُوعًا، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ مَوْقُوفًا..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن نافع کہتے ہیں: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لیے آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ عیادت کے لیے آئے ہیں یا ملاقات کے لیے؟ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں عیادت کے لیے آیا ہوں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے صبح کے وقت مریض کی عیادت کی تو ستر ہزار فرشتوں کی جماعت شام تک اس کے لیے استغفار کرتی ہے اور اس کے لیے جنت کا پھل اور باغیچہ ہوتا ہے، اور اگر اس نے شام کو عیادت کی تو ستر ہزار فرشتوں کی جماعت صبح تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے اور اس کے لیے جنت کا ایک باغیچہ ہوتا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ. وَزَادَ: قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثُمَّ وَقَفَهُ الْمُقْرِئُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ الْجُدِّيَّ يَقِفُهُ، وَهُوَ أَحْفَظُ مِنِّي.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن ابی مسرہ نے مجھ سے کہا: پھر اس کے بعد مقری نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا اور نبی کریم ﷺ کا ذکر نہیں کیا، اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبدالملک جدی اسے موقوف بیان کرتے ہیں اور وہ مجھ سے زیادہ حافظ ہیں۔
اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن ابی مسرہ نے مجھ سے کہا: پھر اس کے بعد مقری نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف بیان کیا اور نبی کریم ﷺ کا ذکر نہیں کیا، اور کہا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ عبدالملک جدی اسے موقوف بیان کرتے ہیں اور وہ مجھ سے زیادہ حافظ ہیں۔