❮
❯
حدیث نمبر: 6585
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَعُودُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَجِئْتَ عَائِدًا أَمْ زَائِرًا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: جِئْتُ عَائِدًا، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا بُكْرَةً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَإِنْ عَادَهُ مَسَاءً شَيَّعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، كُلُّهُمْ يَسْتَغْفِرُ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ ". وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ مَرْفُوعًا، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ شُعْبَةَ مَوْقُوفًا..
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن نافع کہتے ہیں: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی عیادت کے لیے آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ عیادت کے لیے آئے ہیں یا ملاقات کے لیے؟ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں عیادت کے لیے آیا ہوں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے صبح کے وقت مریض کی عیادت کی تو ستر ہزار فرشتوں کی جماعت شام تک اس کے لیے استغفار کرتی ہے اور اس کے لیے جنت کا پھل اور باغیچہ ہوتا ہے، اور اگر اس نے شام کو عیادت کی تو ستر ہزار فرشتوں کی جماعت صبح تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے اور اس کے لیے جنت کا ایک باغیچہ ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6585
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ احمد»