کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب کسی علاقے میں وبا پھیل جائے تو وہاں سے فرار ہو کر نہ نکلے بلکہ ثواب کی نیت سے صبر کرتے ہوئے وہیں ٹھہرا رہے، اور اگر کسی ایسی جگہ وبا پھیل جائے جہاں وہ موجود نہیں تو وہاں نہ جائے
حدیث نمبر: 6556
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى قَالَا: ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا جَاءَ سَرْغَ بَلَغَهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَأَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا ⦗٥٢٧⦘ سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدُمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ". فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ سَرْغَ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ إِنَّمَا انْصَرَفَ بِالنَّاسِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَغَيْرِهِ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کسی علاقے میں وبا کے متعلق سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے فرار کی نیت سے نہ نکلو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (سرغ) سے پلٹ آئے۔ ابن شہاب، سالم بن عبداللہ سے اور وہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ پلٹ آئے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے۔
حدیث نمبر: 6557
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يَحَدِّثُ سَعْدًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا ". فَقُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ يُحَدِّثُ بِهِ سَعْدًا وَلَا يُنْكِرُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم سنو کہ کسی علاقے میں طاعون کی وبا پھیلی ہے تو اس میں داخل نہ ہونا اور جب ایسے علاقے میں طاعون کی وبا پھیلے جہاں پہلے سے تم موجود ہو تو پھر وہاں سے مت نکلو۔“
حدیث نمبر: 6558
وَرَوَاهُ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، فَقَالَ فِي مَتْنِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا الطَّاعُونُ بَقِيَّةُ رِجْزٍ وَعَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ، فَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ فَلَا تَهْبِطُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا عَنْهُ ". أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ طاعون اس عذاب کا بقیہ ہے جس کے ذریعے ان اقوام کو عذاب دیا گیا، جب کسی علاقے میں (یہ) پھیلے تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسے علاقے میں ہو جہاں تم پہلے موجود ہو تو وہاں سے فرار کرتے ہوئے نہ نکلو اور جب کسی علاقے میں طاعون پھیلے اور تم وہاں موجود نہیں ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرو۔“
حدیث نمبر: 6559
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، وَخُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالُوا: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْزٌ وَبَقِيَّةُ عَذَابٍ عُذِّبَ بِهِ قَوْمٌ، فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ فِيهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا فِرَارًا مِنْهُ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَدْخُلُوهَا " ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ وَكِيعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ طاعون عذاب ہے اور اس عذاب کا بقیہ ہے جو اقوام پر عذاب نازل ہوا۔ جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو وہاں سے نہ نکلو فرار اختیار کرتے ہوئے اور جب واقع ہو اس زمین میں جہاں تم نہیں تھے تو پھر اس میں داخل نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 6560
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ، فَقَالَتْ: حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " عَذَابٌ يَبْعَثُهُ اللهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ عَبْدٌ يَقَعُ الطَّاعُونُ فَيُقِيمُ بِبَلَدِهِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، يَعْلَمُ أَنَّهُ لَنْ يُصِيبَهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ، إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ ". ⦗٥٢٨⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”بیشک یہ عذاب ہے، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے نازل کرتا ہے، مگر اہل ایمان کے لیے اسے رحمت بناتا ہے۔ کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو اسی زمین میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون واقع ہوا ہو، وہ صرف ایمان اور طلبِ ثواب کی نیت سے رکا رہے اور وہ جانتا ہو کہ اسے ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، تو اس کے لیے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔“