کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بیمار بخار کو برا بھلا نہ کہے، اور نہ ہی کسی پہنچنے والی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا کرے، بلکہ اسے چاہیے کہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے
حدیث نمبر: 6561
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: ثنا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ وَهِيَ تُرَفْرِفُ، فَقَالَ: " مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ؟ " أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ، قَالَتِ: الْحُمَّى، لَا بَارَكَ اللهُ فِيهَا، فَقَالَ: " لَا تَسُبِّي الْحُمَّى؛ فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْقَوَارِيرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بیشک رسول اللہ ﷺ ام سائب یا ام مسیب رضی اللہ عنہا کے پاس داخل ہوئے اور وہ کانپ رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا ہے اے ام سائب یا (ام مسیب)؟“ تو وہ کہنے لگی: یہ بخار ہے، اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ کرے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بخار کو گالی نہ دے، بیشک وہ بنی آدم کی خطاؤں کو مٹاتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو ختم کرتی ہے۔“
حدیث نمبر: 6562
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ الْأَهْوَازِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْأَهْوَازِ، ثنا جَعْفَرٌ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ نَعُودُهُ وَقَدِ اكْتَوَى بِسَبْعِ كَيَّاتٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَصْحَابَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مَضَوْا وَلَمْ يَنْقُصْهُمْ أَمْوَالٌ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مَالًا لَمْ نَجِدْ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نَعُودُهُ وَهُو يَبْنِي حَائِطًا لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمُسْلِمَ يُؤْجَرُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُنْفِقُهُ إِلَّا فِي شَيْءٍ يَجْعَلُهُ فِي التُّرَابِ، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے اور انہوں نے جسم کو لوہے کے ساتھ داغ رکھا تھا۔ انہوں نے کہا: بے شک نبی کریم ﷺ کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) اسلام لائے اور چلے گئے، مگر مال نے ان کے اعمال میں کوئی کمی نہ کی اور ہم نے مال پایا مگر تصرف کے لیے مٹی کے بغیر کوئی جگہ نہ ملی۔ پھر ہم ان کے پاس دوسری مرتبہ ان کی تیمار داری کے لیے آئے اور وہ دیوار بنا رہے تھے تو انہوں نے کہا: بے شک مسلمان ہر اس چیز میں اجر دیا جاتا ہے جو وہ خرچ کرتا ہے، مگر اس میں نہیں جسے وہ مٹی میں ملاتا ہے اور اگر رسول اللہ ﷺ نے موت کی دعا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا۔
حدیث نمبر: 6563
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ " قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللهُ مِنْهُ بِفَضْلٍ وَرَحْمَةٍ، فَسَدِّدُوا، وَقَارِبُوا، وَلَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ، وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ ". ⦗٥٢٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”کسی کو اس کا عمل ہرگز جنت میں داخل نہیں کرے گا۔“ انہوں نے کہا: نہ ہی آپ کو اے اللہ کے رسول ﷺ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور نہ ہی مجھ کو، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں چھپا لے۔ سو تم سیدھے رہو اور قریب قریب رہو اور کوئی تم میں سے موت کی خواہش نہ کرے۔ اگر وہ نیکی کرنے والا ہے تو شاید اس کی نیکی میں اضافہ ہو جائے اور اگر وہ گناہ گار ہے تو شاید توبہ کر لے۔“
حدیث نمبر: 6564
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِنَّهُ إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ عَنْهُ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی موت کی خواہش نہ کرے اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے؛ کیونکہ جب تم میں سے کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں اور مومن کی عمر اس کے لیے نہیں اضافہ کرتی مگر بھلائی میں۔“
حدیث نمبر: 6565
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلِ: اللهُمَّ أَحْينِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، وَغَيْرِهِ عَنْ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم میں سے کسی ایک کو تکلیف پہنچتی ہے اس کی وجہ سے وہ موت کی خواہش نہ کرے، اگر اس نے ضرور کرنی ہی ہے تو پھر کہے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» ”اے اللہ! مجھے زندہ رکھنا جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے اور موت میرے حق میں بہتر ہو تو مجھے فوت کرلینا۔““