کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ہر مسلمان کے لیے جو مناسب ہے کہ اسے جو بھی بیماریاں، تکلیفیں اور غم پہنچیں ان پر صبر کو اپنا شعار بنائے کیونکہ ان میں گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی ہے
حدیث نمبر: 6531
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يُوعَكُ، فَمَسِسْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، قَالَ: " أَجَلْ، إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ " قَالَ: قُلْتُ: لِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ، قَالَ: " نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ يُصِيبُهُ أَذًى مِنْ مَرِضٍ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا "..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس داخل ہوا اور آپ ﷺ بخار میں تھے، میں نے آپ کے جسم کو ہاتھ لگایا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو بہت سخت بخار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، مجھے تمہارے دو آدمیوں جتنا بخار ہوتا ہے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس وجہ سے کہ آپ کے لیے دو اجر ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جس قدر اس روئے زمین پر مسلمان ہیں، جب انہیں کوئی بیماری یا تکلیف پہنچتی ہے یا اس کے علاوہ کچھ، تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کی خطائیں مٹا دیتا ہے جس طرح درخت کے پتے گرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6531
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»
حدیث نمبر: 6532
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
یعلیٰ بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں حدیث بیان کی اعمش رحمہ اللہ نے اور انہوں نے ایسی ہی بات بیان کی اور انہوں نے کہا: میں نے اپنے ہاتھ آپ ﷺ پر رکھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6532
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم وبخاري»
حدیث نمبر: 6533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَ الرَّبِيعُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ بَحْرٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَوْعُوكٌ، عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ فَوَجَدَ حَرَارَتَهَا فَوْقَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا أَشَدَّ حَرَّ حُمَّاكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا كَذَلِكَ يُشَدَّدُ عَلَيْنَا الْبَلَاءُ، وَيُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ " ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً؟ قَالَ: " الْأَنْبِيَاءُ " قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ الْعُلَمَاءُ " قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ الصَّالِحُونَ، كَانَ أَحَدُهُمْ يُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يَلْبَسُهَا، وَيُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ، وَلَأَحَدُهُمْ أَشَدُّ فَرَحًا بِالْبَلَاءِ مِنْ أَحَدِكُمْ بِالْعَطَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس داخل ہوئے تو آپ ﷺ بخار کی حالت میں تھے اور آپ ﷺ پر چادر تھی۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کو آپ ﷺ پر رکھا تو چادر (کمبل) کے اوپر سے تپش کو محسوس کیا تو سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کے بخار کی تپش کس قدر زیادہ ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک ہماری تکالیف یونہی سخت ہوتی ہیں اور ہمارا اجر بھی دو گنا ہوتا ہے۔“ پھر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تمام لوگوں میں سے سخت تکلیف میں کون لوگ ہوتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء۔“ انہوں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر علماء۔“ انہوں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر صالحین؛ ان میں سے ایک محتاجی سے آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ صرف ایک چادر ہی پاتا ہے جسے وہ پہنتا ہے اور ایک فراوانی سے آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ وہ اسے ہلاک کر دیتی ہے اور نہیں ہے تم میں سے کوئی ایک زیادہ خوش ہونے والا آزمائش سے جس قدر تم میں سے کوئی نعمت کے حصول پر خوش ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6533
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»
حدیث نمبر: 6534
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا ⦗٥٢٢⦘ الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً؟ قَالَ: " النَّبِيُّونَ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ، يُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسْبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ صُلْبَ الدِّينِ اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا تَبْرَحُ الْبَلَايَا عَلَى الْعَبْدِ حَتَّى تَدَعَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ لَيْسَ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ آزمائش کن لوگوں کی ہوتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء کی۔ پھر درجہ بدرجہ ہر آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ اگر وہ دین میں زیادہ پختہ ہے تو اس کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو وہ اپنے دین کے مطابق ہی آزمایا جاتا ہے۔ سو نہیں آتی کسی بندے پر آزمائش حتیٰ کہ اسے ایسی حالت میں چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی کوئی غلطی (گناہ) نہیں ہوتی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6534
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ترمذي»
حدیث نمبر: 6535
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْصِنٍ السَّهْمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ يحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: ١٢٣] شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَذَكَرُوهُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَارِبُوا، وَسَدِّدُوا، وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّ كُلَّ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ كَفَّارَةٌ لَهُ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا أَوِ النَّكْبَةُ يُنْكَبُهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری۔ انہوں نے اس کا تذکرہ پیارے پیغمبر ﷺ کے پاس کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مل جل کے رہو اور سیدھے رہو اور خوشخبری پھیلاؤ، یقیناً مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے تکلیف پہنچاتا ہے اور وہ مصیبت جو اس پر آتی ہے (گناہوں کے کفارے کا باعث ہے)۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6535
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
حدیث نمبر: 6536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ؟ {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: ١٢٣] أَكَلُّ سُوءٍ عَمِلْنَا بِهِ جُزِينَا؟ فَقَالَ: " غَفَرَ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، أَلَسْتَ تَمْرَضُ؟ أَلَسْتَ تَحْزَنُ؟ أَلَسْتَ تَنْصَبُ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ الْبَلَاءُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَهُوَ مَا تُجْزَوْنَ بِهِ فِي الدُّنْيَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آیت کے بعد خلاصی کیسے؟ ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] ”کہ جس نے برے اعمال کیے اسے پورا بدلہ دیا جائے گا“ یعنی جو بھی ہم برا عمل کرتے ہیں اس کی سزا دی جائے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اللہ تجھے معاف کرے“، یہ بات تین مرتبہ کہی۔ ”کیا تو بیمار نہیں ہوتا؟ کیا تو غمگین نہیں ہوتا؟ کیا تجھے تکلیف نہیں آتی؟ کیا تجھے مصیبت نہیں آتی؟“ میں نے کہا: جی ہاں آتی ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی تو ہے وہ جس کا دنیا میں بدلہ دیے جاتے ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6536
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ترمذي»
حدیث نمبر: 6537
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيِّ بْنِ السَّقَّا الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ نَصَبٍ، وَلَا وَصَبٍ، وَلَا سَقَمٍ، وَلَا حَزَنٍ، حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ، إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهِ مِنْ سَيِّئَاتِهِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما دونوں سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”کسی مومن کو کبھی کوئی تکلیف، پریشانی، بیماری اور غم، حتیٰ کہ کوئی پریشانی جو اس کو پریشان و غمگین کر دیتی ہے، نہیں پہنچتی مگر اس کے عوض اللہ سبحانہ اس کی خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6537
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
حدیث نمبر: 6538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ⦗٥٢٣⦘ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ تُصِيبُ الْمُسْلِمَ إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا عَنْهُ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پیارے پیغمبر ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بھی مصیبت جو مومن کو پہنچتی ہے تو اس کے عوض اللہ سبحانہ اس کے گناہ مٹاتا ہے، حتیٰ کہ اس کانٹے سے بھی جو اسے تکلیف دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6538
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
حدیث نمبر: 6539
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي: قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُصِيبَةٍ يُصَابُ بِهَا الْمُؤْمِنُ إِلَّا كُفِّرَ بِهَا عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا ". لَفْظُ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی ایسی مصیبت نہیں جو مومن کو پہنچے مگر اس سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے حتیٰ کہ اس کانٹے سے بھی جو اسے چبھتا ہے۔“
اور معمر کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں ہے کوئی بیماری یا تکلیف جو مومن کو پہنچتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتے ہیں حتیٰ کہ کوئی کانٹا یا کوئی پریشانی ہو (اس کے ساتھ بھی)۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6539
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
حدیث نمبر: 6540
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ تَشُوكُهُ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا حَطَّ اللهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً ".
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”نہیں ہے کوئی مومن جسے کانٹا چبھتا ہے یا اس سے کمتر کوئی تکلیف مگر اس سے اللہ سبحانہ اس کے گناہ کو مٹا دیتے اور اجر کو بڑھا دیتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6540
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
حدیث نمبر: 6541
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَهَا، إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَإِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مومن کو کانٹا نہیں لگتا یا اس سے کم تکلیف، مگر اس سے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بڑھاتا ہے اور اس سے اس کی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6541
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم، ترمذي»
حدیث نمبر: 6542
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ أَبُو غَسَّانَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ: أَتَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ نَعُودُهُ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ نَحِيفَةٌ قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ بَاتَ؟ قَالَ: بَاتَ بِأَجْرٍ، قَالَ أَبُو ⦗٥٢٤⦘ عُبَيْدَةَ: مَا بِتُّ بِأَجْرٍ، قَالَ: فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَنِ الْكَلِمَةِ؟ قَالُوا: مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلَكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللهِ فَبِسَبْعِ مِائَةٍ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ، أَوْ مَازَ أَذًى عَنْ طَرِيقٍ فَالْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا، وَمَنِ ابْتَلَاهُ اللهُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ فَلَهُ بِهِ حِطَّةُ خَطِيئَةٍ ". قَالَ خَالِدٌ: " يَعْنِي تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عیاض بن غطیف بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے تو ان کے پاس ان کی بیوی تھی، ہم نے ان سے پوچھا: انہوں نے رات کیسے گزاری ہے؟ تو انہوں نے کہا: اجر کے ساتھ۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا (میں نے) اجر پاتے ہوئے رات گزاری ہے؟ تو لوگ خاموش ہو گئے، انہوں نے کہا: کیا تم ان سے اس بارے میں نہیں پوچھو گے؟ تو انہوں نے کہا: جو آپ نے کہا ہے اس نے ہمیں تعجب میں نہیں ڈالا مگر ہم آپ سے پوچھتے ہیں، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے: ”جس نے اضافی درہم و دینار اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو وہ سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے، اور جس نے ایک درہم اپنے اہل پر خرچ کیا یا پھر راستے سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹایا تو یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے، اور روزہ ڈھال ہے جب تک وہ اسے پھاڑتا نہیں ہے، اور جس کسی کو اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم کی بیماری سے آزمایا اس کے عوض بھی اس کے گناہ مٹائے جائیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6542
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه احمد»
حدیث نمبر: 6543
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ، وَمَالِهِ، وَفِي وَلَدِهِ، حَتَّى يَلْقَى اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن اور مومنہ کی آزمائش جاری رہتی ہے اس کے نفس، مال اور اولاد میں، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6543
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ترمذي»
حدیث نمبر: 6544
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ حِينَ يُصِيبُهُ الْوَعْكُ أَوِ الْحُمَّى كَمَثَلِ حَدِيدَةٍ تُدْخَلُ النَّارَ فَيَذْهَبُ خَبَثُهَا وَيَبْقَى طَيِّبُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبد الرحمن بن اذہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی مثال لوہے کی سی ہے جب اسے بخار یا تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا میل (خطائیں) ختم ہو جاتا ہے اور پاکیزگی باقی رہ جاتی ہے۔“ یعنی جس طرح لوہے کو آگ میں ڈالنے سے میل کچیل ختم ہو جاتا ہے اور اصل لوہا بچ رہتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6544
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم»
حدیث نمبر: 6545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيِّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ الْمُعَنَّى قَالَا: ثنا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ السُّلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَنَلْهَا بِعَمَلِهِ ابْتَلَاهُ اللهُ فِي جَسَدِهِ أَوْ فِي مَالِهِ أَوْ فِي وَلَدِهِ "، زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ " ثُمَّ صَبَرَ عَلَى ذَلِكَ "، ثُمَّ اتَّفَقَا، " حَتَّى يُبَلِّغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم سلمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور ان کی صحبت پیارے پیغمبر ﷺ کے ساتھ تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”بیشک بندے کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلیٰ لکھا جاتا ہے مگر انسان اپنے اعمال سے اس تک نہیں پہنچ پاتا، تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس کے جسم، مال، اولاد کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کرتے ہیں۔“ ابن نفیل نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں: ”پھر وہ اس پر صبر کرتا ہے،“ اس بات میں وہ دونوں متفق ہیں: ”یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو اس مقام پر پہنچاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سبقت لے جا چکا ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6545
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6546
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ: اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِقًا حَتَّى أُطْلِقَهُ أَوْ أَكْفِتَهُ إِلَيَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بیشک بندہ جب عبادت کرتے ہوئے اچھے طریقے کا انتخاب کرتا ہے، پھر وہ بیمار ہو تو موکل فرشتے کو کہا جاتا ہے: اس کے لیے ان اعمال کا اجر لکھ جو وہ تندرستی کی حالت میں کرتا تھا یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا اپنی طرف بلا لوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6546
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه احمد»
حدیث نمبر: 6547
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْمَاعِيلَ إِبْرَاهِيمُ ⦗٥٢٥⦘ السَّكْسَكِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى، وَاصْطَحَبَ هُوَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ فَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مِرَارًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ، كُتِبَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَطَرِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
ابو بردہ کہتے ہیں: میں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے کئی مرتبہ سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر پر ہوتا ہے تو اس کے لیے اس کا اجر ایسا ہی لکھا جاتا ہے جیسے اعمال وہ مقیم ہوتے ہوئے کرتا ہے یا تندرست ہوتے ہوئے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6547
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
حدیث نمبر: 6548
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَكَّةَ ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: " إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي الْمُؤْمِنَ فَلَمْ يَشْكُنِي إِلَى عُوَّادِهِ أَطْلَقْتُهُ مِنْ أُسَارِيَّ، ثُمَّ أَبْدَلْتُهُ لَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ، وَدَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، ثُمَّ يسْتَأْنَفُ الْعَمَلَ". وَرَوَاهُ أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا عَلَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں مومن بندے کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہوں، پھر وہ مجھ سے شکایت نہیں کرتا آزمائش کے ختم کرنے کی کہ میں اسے ٹھیک کر دوں۔ میں اسے اس کے غم سے آزاد کر دیتا ہوں۔ پھر میں اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں بدل دیتا ہوں اور اس کے خون کو بہتر خون میں بدل دیتا ہوں، تو پھر وہ نئے سرے سے اعمالِ صالحہ شروع کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6548
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الحاكم»
حدیث نمبر: 6549
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ ثنا بَحْرٌ هُوَ ابْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: " أَبْتَلِي عَبْدِيَ الْمُؤْمِنَ، فَإِذَا لَمْ يَشْكُ إِلَى عُوَّادِهِ ذَلِكَ حَلَلْتُ عَنْهُ عُقَدِي، وَأَبْدَلْتُهُ دَمًا خَيْرًا مِنْ دَمِهِ، وَلَحْمًا خَيْرًا مِنْ لَحْمِهِ، ثُمَّ قُلْتُ لَهُ: ايتَنِفِ الْعَمَلَ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میں اپنے مومن بندے کو آزماتا ہوں، جب وہ اپنی خلاصی کی شکایت نہیں کرتا تو میں اس کی گرہ کھول دیتا ہوں اور اس کے خون کو اچھے خون میں بدل دیتا ہوں اور اس کے گوشت کو اچھے گوشت میں، پھر میں اسے کہتا ہوں: اب خوب اعمال کر۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6549
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ الحاكم»
حدیث نمبر: 6550
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ السَّلِيطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: جَاءَتِ الْحُمَّى تُسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنْ أَنْتِ " قَالَتْ: الْحُمَّى، قَالَ: " أَتَعْرِفِينَ أَهْلَ قُبَاءٍ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " اذْهَبِي إِلَيْهِمْ " فَذَهَبَتْ إِلَيْهِمْ فَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ كَفَّارَةً وَطَهُورًا " فَقَالُوا: بَلْ تَكُونُ كَفَّارَةً وَطَهُورًا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بخار نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اجازت چاہی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو کون ہے؟“ تو اس نے کہا: میں بخار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اہل قباء کو جانتا ہے؟“ تو اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف جا۔“ تو وہ ان کی طرف چلا گیا، انہوں نے اس کی سختی کو محسوس کیا تو آپ ﷺ سے شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چاہتے ہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم سے اسے دور کر دے گا، اگر چاہو تو وہ تمہارے لیے «طَهُورٌ» ”پاکیزگی“ اور گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔“ تو انہوں نے کہا: بلکہ کفارہ اور پاکیزگی کا باعث اچھا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6550
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ ابن حبان»
حدیث نمبر: 6551
رَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ، فَذَكَرَ الْكَلَامَ الْأَوَّلَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ مَعْنَى الْكَلَامِ الثَّانِي فِي شِكَايَتِهِمْ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ، أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، أَنْبَأَ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا يَعْلَى فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
اُمِّ طارق، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی باندی بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ۔۔۔ اور دوسرے کلام کے معنی کا ذکر کیا جو ان کی شکایت کے متعلق تھا، وہ اعمش سے بیان کرتے ہیں اور وہ ابوسفیان سے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6551
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ احمد»
حدیث نمبر: 6552
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٥٢٦⦘ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَبِي وَشُعَيْبٌ قَالَا: أنبأ اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ ". يُرِيدُ عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب میں بندے کو آزماتا ہوں اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) سے پھر وہ صبر کرتا ہے تو اس کے عوض میں اسے جنت عطا کروں گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6552
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»
حدیث نمبر: 6553
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرُأَبَاذِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ الدَّوْسِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ جُلُودَهُمْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِمَّا يَرَوْنَ مِنْ ثَوَابِ أَهْلِ الْبَلَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صحت و تندرستی والے قیامت کے دن پسند کریں گے کہ ان کے جسموں کو قینچیوں سے کاٹا جاتا اس وجہ سے جو وہ اہل مصائب کے اجر کو دیکھیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6553
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ترمذي»
حدیث نمبر: 6554
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ كُلٌّ لَهُ فِيهِ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ اللهَ فَلَهُ أَجْرٌ، وَإِنْ أَصَابَهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ فَلَهُ أَجْرٌ، فَكُلُّ قَضَاءِ اللهِ لِلْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کے لیے ہر حالت میں بہتری ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی ایک کے لیے بھی نہیں۔ اگر اسے بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، وہ اس کے لیے اس کے عوض اجر ہے۔ اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو اس صورت میں بھی اس کے لیے اجر ہے۔ غرض مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6554
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 6555
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ، إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حَمِدَ اللهَ وَشَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللهَ وَصَبَرَ، فَالْمُؤْمِنُ يُؤْجَرُ عَلَى كُلِّ أَمْرِهِ، حَتَّى يُؤْجَرَ فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ ". وَفِي هَذَا أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ، وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ لِمَنْ أُيِّدَ بِالتَّوْفِيقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں مومن پر تعجب کرتا ہوں کہ اگر اسے کوئی بھلائی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر اور حمد بجا لاتا ہے، اگر اسے کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر بھی اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، سو مومن ہر حالت میں اجر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ اس لقمے میں بھی جو اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6555
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه احمد»