حدیث نمبر: 6484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں بادِ صبا سے مدد کیا گیا ہوں اور عاد کو پچھم (پچھوائی) کی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 6485
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نُصِرْتُ بِالصَّبَا، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَغَيْرِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں بادِ صبا سے مدد کیا گیا ہوں اور عادیوں کو پچھم کی ہوا سے ہلاک کیا گیا۔“
حدیث نمبر: 6486
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، {وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا} [النبأ: ١٤] قَالَ: " يَبْعَثُ اللهُ الرِّيحَ فَتَحْمِلُ الْمَاءَ مِنَ السَّمَاءِ، فَتَمُرُّ فِي السَّحَابِ حَتَّى تَدُرَّ كَمَا تَدُرُّ اللِّقْحَةُ، ثُمَّ تُبْعَثُ مِنَ السَّمَاءِ أَمْثَالَ الْعَزَالِي فَتُصَرُّ بِهِ الرِّيَاحُ؛ فَيَنْزِلُ مُتَفَرِّقًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ﴿وَأَنْزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا﴾ [سورة النبأ: 14] کہ اس آیت مبارکہ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے، وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہیں اور وہ بادلوں کی صورت میں چلتا ہے حتیٰ کہ وہ ایسے بہتا ہے جیسے دودھیل اونٹنی کا دودھ بہتا ہے، پھر اسے آسمان سے بھیجا جاتا ہے پرنالوں کی مانند، پھر اسے ہوائیں پھیرتی (اڑاتی) ہیں اور وہ قطرات کی صورت زمین پر اترتا ہے۔
حدیث نمبر: 6487
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتَحْمِلُ الْمَاءَ مِنَ السَّمَاءِ؛ فَتَمُرَّ فِي السَّحَابِ حَتَّى تَدُرَّ كَمَا تَدُرَّ اللِّقْحَةُ، ثُمَّ تُمْطِرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہواؤں کو بھیجتا ہے، وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہیں، پھر وہ بادلوں سے گزرتی ہیں تو وہ ایسے بہتا ہے جیسے تھنوں میں سے دودھ، پھر وہ بارش برستی ہے۔
حدیث نمبر: 6488
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبَلَغَنِي، أَنَّ قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَبَّتْ جَنُوبٌ إِلَّا أَسَالَتْ وَادِيًا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " يَعْنِي أَنَّ اللهَ خَلَقَهَا تَهُبُّ بُشْرَى بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ مِنَ الْمَطَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قتادہ کہتے ہیں: رسول معظم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں چلتی جنوب کی ہوائیں مگر وادیاں بہہ پڑتی ہیں۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے قبل خوشخبری کی ہوائیں چلتی ہیں (بارش کی)۔
حدیث نمبر: 6489
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ جُعْدُبَةَ يحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ فِي الْجَنَّةِ رِيحًا بَعْدَ الرِّيحِ بِسَبْعِ سِنِينَ، مِنْ دُونِهَا بَابٌ مُغْلَقٌ، وَإِنَّمَا تَأْتِيكُمُ الرُّوحُ مِنْ خَلَالِ ذَلِكَ الْبَابِ، وَلَوْ فُتِحَ ذَلِكَ الْبَابُ لَأَدَرَّتْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، وَهِيَ عِنْدَ اللهِ الْأَزْيَبُ، وَهِيَ عِنْدَكُمُ الْجَنُوبُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن مخراق سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور وہ اسے نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک «رِيحٍ» (ہوا) کو پیدا کیا دوسری ہوا کے سات سال بعد، اس کے پیچھے ایک دروازہ بند ہے اور بیشک جو ہوا تم تک آتی ہے وہ اس دروازے کے درمیان میں سے گزر کر آتی ہے۔ اگر وہ دروازہ کھول دیا جائے تو جو کچھ آسمان و زمین کے درمیان ہے وہ الٹ پلٹ ہو جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک «الْأَزْيَبُ» ہے اور تمہارے نزدیک جنوبی ہوا ہے۔“
حدیث نمبر: 6490
أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْقُرَشِيُّ الْهَرَوِيُّ فِي ⦗٥٠٩⦘ طَرِيقِ مَكَّةَ عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ مَنْصُورُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مَنْصُورٍ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَفَعَهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى أَنَّهُ كَانَ إِذَا اشْتَدَّتِ الرِّيحُ يَقُولُ: " اللهُمَّ لَقَحًا وَلَا عَقِيمًا ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں تو اسے اٹھاتے ہیں، جب ہوا تیز ہو جاتی تو نبی کریم ﷺ فرماتے: «اللَّهُمَّ لَقْحًا لَا عَقِيمًا» ”اے اللہ! اسے فائدہ مند بنا، نقصان دہ نہ بنا۔“