حدیث نمبر: 6480
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنِ السَّنَةُ بِأَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قحط سالی سے یہ مراد نہیں کہ بارش نہ ہو، قحط سالی سے مراد یہ ہے کہ بارش ہو مگر زمین میں کچھ پیدا نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 6481
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَكْتُومٍ، ثنا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا عَامٌ بِأَمْطَرَ مِنْ عَامٍ، وَلَا هَبَّتْ جَنُوبٌ إِلَّا سَالَ وَادِي كَذَا " رُوِيَ مَرْفُوعًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو عام بارشیں ہوتی ہیں، یہ ستاروں کے چلنے سے نہیں ہوتیں اور جب جنوب کی ہوائیں چلتی ہیں تو وادی بہہ پڑتی ہے۔“
حدیث نمبر: 6482
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " مَا عَامٌ بِأَكْثَرَ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللهَ يُحَوِّلُهُ كَيْفَ يَشَاءُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اکثر بارش ستاروں کے چلنے سے نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ انہیں پھیرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 6483
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا مِنْ عَامٍ بِأَقَلَّ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللهَ تَعَالَى يَصْرِفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا} [الفرقان: ٥٠] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کسی ستارے کی وجہ سے بارش کم نہیں ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ اسے پھیرتا ہے جیسے چاہتا ہے، پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا﴾ [سورة الفرقان: 50] (البتہ انھیں ہم پھیرتے ہیں ان کے درمیان تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں)۔