أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا، وَلَكِنِ السَّنَةُ بِأَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قحط سالی سے یہ مراد نہیں کہ بارش نہ ہو، قحط سالی سے مراد یہ ہے کہ بارش ہو مگر زمین میں کچھ پیدا نہ ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَكْتُومٍ، ثنا أَبُو عَتَّابٍ سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا عَامٌ بِأَمْطَرَ مِنْ عَامٍ، وَلَا هَبَّتْ جَنُوبٌ إِلَّا سَالَ وَادِي كَذَا " رُوِيَ مَرْفُوعًا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَالصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی سال کسی دوسرے سال سے زیادہ بارش والا نہیں ہوتا، اور جب بھی جنوب کی ہوائیں چلتی ہیں تو فلاں وادی بہہ پڑتی ہے۔“
یہ روایت اس سند کے ساتھ مرفوع بیان کی گئی ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
یہ روایت اس سند کے ساتھ مرفوع بیان کی گئی ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ: " مَا عَامٌ بِأَكْثَرَ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللهَ يُحَوِّلُهُ كَيْفَ يَشَاءُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کوئی سال کسی دوسرے سال سے زیادہ بارش والا نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے پھیرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ، أنبأ سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا مِنْ عَامٍ بِأَقَلَّ مَطَرًا مِنْ عَامٍ، وَلَكِنَّ اللهَ تَعَالَى يَصْرِفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا فَأَبَى أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا} [الفرقان: ٥٠] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کوئی سال کسی دوسرے سال سے کم بارش والا نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے جہاں چاہتا ہے پھیر دیتا ہے، پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿وَلَقَدْ صَرَّفْنَاهُ بَيْنَهُمْ لِيَذَّكَّرُوا﴾ [سورة الفرقان: 50] (البتہ انھیں ہم پھیرتے ہیں ان کے درمیان تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہوئے انکار کرتے ہیں)۔