أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ؛ فَإِنَّ اللهَ هُوَ الدَّهْرُ ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، وَغَيْرِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ حَرْمَلَةَ: وَإِنَّمَا تَأْوِيلُهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ، أَنَّ الْعَرَبَ كَانَ شَأْنُهَا أَنْ تَذُمَّ الدَّهْرَ وَتَسُبَّهُ عِنْدَ الْمَصَائِبِ الَّتِي تَنْزِلُ بِهِمْ مِنْ مَوْتٍ، أَوْ هَرَمٍ، أَوْ تَلَفٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ، فَيَقُولُونَ: إِنَّمَا يُهْلِكُنَا الدَّهْرُ، وَهُوَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، وَهُمَا الْفِتْنَتَانِ وَالْجَدِيدَانِ، فَيَقُولُونَ: أَصَابَتْهُمْ قَوَارِعُ الدَّهْرِ، وَأَبَادَهُمُ الدَّهْرُ؛ فَيَجْعَلُونَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ اللَّذَيْنِ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ، فَيَذُمُّونَ الدَّهْرَ فَإِنَّهُ الَّذِي يُفْنِينَا وَيَفْعَلُ بِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ " عَلَى أَنَّهُ الَّذِي يُفْنِيكُمْ، وَالَّذِي يَفْعَلُ بِكُمْ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ، فَإِنَّكُمْ إِذَا سَبَبْتُمْ فَاعِلَ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ فَإِنَّمَا تَسُبُّوا اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، فَإِنَّ اللهَ فَاعِلُ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَطُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ وَمَا حَفِظَ بَعْضُ رُوَاتِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زمانے کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عرب لوگ مصائب کے وقت زمانے کو گالیاں دیا کرتے تھے اور برا بھلا کہتے تھے (یعنی موت، بڑھاپے اور محتاجی کے وقت) اور وہ کہتے کہ ہمیں حوادثاتِ زمانہ ہلاک کر دیں گے اور وہ رات و دن ہے اور ان کا نیا اور پرانا ہونا ہے اور وہ کہتے: انہیں زمانے کی سختیاں پہنچی ہیں اور زمانے نے انہیں برباد کر دیا ہے۔ سو اسی رات اور دن سے ہی وقت ہے اس لیے وہ زمانے کو مذموم کہتے کہ یہی ہمیں فنا کرتا ہے اور ہمارے ساتھ ایسے کرتا ہے، سو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم زمانے کو گالی نہ دو“؛ کیونکہ اس سے مراد تو وہ ہے جو انہیں چلاتا ہے اور پھیرتا ہے اور جب تم ان اسباب کو گالی دیتے ہو تو یہ اس کے خالق و صانع کو گالی دینا ہے، سو تم اللہ تعالیٰ کو گالی دیتے ہو؛ کیونکہ وہی صانع و خالق ہے اور یہ سب اسی کے اختیار میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عرب لوگ مصائب کے وقت زمانے کو گالیاں دیا کرتے تھے اور برا بھلا کہتے تھے (یعنی موت، بڑھاپے اور محتاجی کے وقت) اور وہ کہتے کہ ہمیں حوادثاتِ زمانہ ہلاک کر دیں گے اور وہ رات و دن ہے اور ان کا نیا اور پرانا ہونا ہے اور وہ کہتے: انہیں زمانے کی سختیاں پہنچی ہیں اور زمانے نے انہیں برباد کر دیا ہے۔ سو اسی رات اور دن سے ہی وقت ہے اس لیے وہ زمانے کو مذموم کہتے کہ یہی ہمیں فنا کرتا ہے اور ہمارے ساتھ ایسے کرتا ہے، سو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم زمانے کو گالی نہ دو“؛ کیونکہ اس سے مراد تو وہ ہے جو انہیں چلاتا ہے اور پھیرتا ہے اور جب تم ان اسباب کو گالی دیتے ہو تو یہ اس کے خالق و صانع کو گالی دینا ہے، سو تم اللہ تعالیٰ کو گالی دیتے ہو؛ کیونکہ وہی صانع و خالق ہے اور یہ سب اسی کے اختیار میں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَابْنُ مِلْحَانَ قَالَا: ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ ". ⦗٥١٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”آدم کا بیٹا زمانے کو گالی دیتا ہے اور میں زمانہ ہوں؛ کیونکہ دن اور رات کا نظام میرے ہاتھ میں ہے۔“”
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِيَ الْأَمْرُ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُمَيْدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم (علیہ السلام) کا بیٹا مجھے اذیت دیتا ہے کہ وہ «الدَّهْرُ» ”دہر“ کو گالی دیتا ہے اور میں ہی «الدَّهْرُ» ”دہر“ ہوں۔ میرے ہاتھ میں تمام معاملات ہیں، میں ہی دن رات کو پھیرتا ہوں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، ثنا سُفْيَانُ ابْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّ الدَّهْرَ هُوَ الَّذِي يُهْلِكُنَا، هُوَ الَّذِي يُمِيتُنَا وَيُحْيِينَا، فَرَدَّ اللهُ عَلَيْهِمْ قَوْلَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اہلِ جاہلیت کہا کرتے تھے: زمانہ ہی ہمیں ہلاک کرتا ہے، وہی ہمیں موت دیتا ہے اور وہی ہمیں زندگی دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا رد فرمایا۔“