کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: امام لوگوں کے لیے بارش کی دعا کرے اور بارش نہ ہو تو وہ دوبارہ اور پھر بار بار دعا کرے یہاں تک کہ انہیں بارش عطا کر دی جائے اور وہ یہ نہ کہے کہ ”میں نے بار بار دعا کی لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی“
حدیث نمبر: 6429
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ، مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا الِاسْتِعْجَالُ؟ قَالَ: يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ، وَقَدْ دَعَوْتُ، فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي، فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ، وَيَدَعُ الدُّعَاءَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان کی دعا ہمیشہ قبول کی جاتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ کی یا قطع رحمی کی دعا نہیں کرتا، جب تک وہ جلدی کا مطالبہ نہیں کرتا۔“ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! «الِاسْتِعْجَالُ» ”جلدی کرنا“ کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بندہ کہتا ہے: ”میں نے بہت دعا کی، میں نے بہت دعا کی، مگر میری دعا قبول نہیں کی گئی“، تب وہ تھک جاتا ہے اور دعا کو چھوڑ دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6429
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ البخاري»