کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان احادیث کا تذکرہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے نماز سے پہلے دعا کی یا خطبہ دیا
حدیث نمبر: 6408
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ أَنَّهُ، سَمِعَ عَمَّهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهَ يَدْعُو اللهَ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ". قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ فِي الْحَدِيثِ: وَقَرَأَ فِيهِمَا، قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يُرِيدُ الْجَهْرَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ "، وَكَذَلِكَ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ وَحْدَهُ. وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ دُونَ قَوْلِهِ: ثُمَّ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ دُونَ كَلِمَةِ ثُمَّ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَوَصَفَ الصَّلَاةَ أَوَّلًا، ثُمَّ وَصَفَ تَحْوِيلَ الرِّدَاءِ وَالدُّعَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عباد بن تمیم مازنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے سنا جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن بارش کی دعا کے لیے نکلے، سو آپ ﷺ نے لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ پھیری اور قبلے کی طرف منہ کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنی چادر کو بھی پھیرا، پھر آپ ﷺ نے دو رکعات پڑھیں۔ ابن ابی ذئب نے اس حدیث میں کہا کہ آپ ﷺ نے ان میں قراءت بھی کی۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے باآواز بلند قراءت کی۔
نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں آدم بن ابی ایاس سے اور انہوں نے ابن ابی ذئب سے جو حدیث بیان کی، اسی حوالے سے نقل کی ہے۔ اس میں انہوں نے کہا ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور ان میں قراءت جہری کی اور ایسی ہی روایت ابونعیم رحمہ اللہ سے بیان کی گئی ہے جو انہوں نے ابن ابی ذئب سے بیان کی اور اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو طاہر کی سند سے بیان کیا ہے۔ معمر نے زہری سے بیان کیا اور پہلے نماز کا طریقہ بیان کیا، پھر چادر پلٹنے کا اور دعا کا ذکر کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6408
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»
حدیث نمبر: 6409
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: شَكَيَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ، وَاسْتِيخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَدَعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الرَّحْمِنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللهُمَّ أَنْتَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ "، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَتْرُكْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَهُوَ رَافِعٌ يَدَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ⦗٤٨٧⦘ وَأَنْشَأَ اللهُ تَعَالَى سَحَابًا فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكَنِّ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، وَقَالَ " أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ". أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ هَارُونَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس بارش کے قحط کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے منبر رکھنے کا حکم دیا، تو اسے عید گاہ میں رکھا گیا اور لوگوں سے ایک مخصوص دن میں نکلنے کا وعدہ لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے جب سورج کا کنارہ ظاہر ہونے لگا تو آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اللہ کی تکبیر و تحمید بیان کی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اپنے گھروں کے خشک ہونے کا ذکر کیا اور بارش طلب کی اور اس وقت کے مشکل ہو جانے کا، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اسے پکارو اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول کرے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلٰی حِيْنٍ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے، نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے، بدلے کے دن کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، ہم پر بارش نازل فرما اور جو کچھ تو نے نازل کیا ہے اسے ہمارے لیے قوت اور ایک مدت تک کا ذریعہ بنا۔“
پھر آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور انہیں مسلسل اٹھائے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہو گئی۔ پھر لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کو پھیرا اور اپنی چادر کو پلٹا اس حال میں کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور منبر سے اتر کر دو رکعتیں پڑھائیں اور اللہ تعالیٰ نے بادل پیدا کر دیے اور وہ کڑکے اور چمکے، پھر وہ اللہ کے حکم سے برسے۔ آپ ﷺ ابھی مسجد تک نہیں آئے تھے کہ پرنالے بہنے لگے۔ جب آپ ﷺ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ بارش سے بچنے کی جلدی کر رہے ہیں تو آپ ﷺ مسکرا دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، میں اس کا بندہ اور رسول ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6409
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابو داؤد»
حدیث نمبر: 6410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو غَسَّانَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: " خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيُّ يَسْتَسْقِي، وَقَدْ كَانَ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ فِيمَنْ خَرَجَ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ: فَقَامَ قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ عَلَى غَيْرِ مِنْبَرٍ، فَاسْتَسْقَى وَاسْتَغْفَرَ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، وَنَحْنُ خَلْفَهُ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ، لَمْ يُؤَذِّنْ يَوْمَئِذٍ، وَلَمْ يُقِمْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: فَخَطَبَ ثُمَّ صَلَّى. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَسْقَى، وَرِوَايَةُ الثَّوْرِيِّ وَزُهَيْرٍ أَشْبَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق سے روایت ہے کہ عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہ بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تھا۔ ان کے ساتھ جو لوگ نکلے ان میں براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما بھی تھے اور اسحاق کہتے ہیں کہ اس دن میں بھی ان کے ساتھ تھا تو وہ بغیر منبر کے اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہوئے۔ پھر انہوں نے بارش کی دعا کی اور توبہ و استغفار کیا، پھر ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور ہم ان کے پیچھے تھے وہ ان میں بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے تو نہ تو انہوں نے اذان کہی اور نہ ہی اقامت۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کو اپنی صحیح میں ابو نعیم سے بیان کیا ہے اور ثوری نے جو ابو اسحاق سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں: انہوں نے خطبہ دیا، پھر نماز پڑھائی اور جو شعبہ نے بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ دو رکعات پڑھائیں، پھر دعا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 6410
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»