کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس دلیل کا بیان کہ نمازِ استسقاء میں سنت وہی ہے جو عیدین کی نماز کی سنت ہے، اور یہ کہ وہ اسے عیدین کی طرح عید کی نماز کے وقت اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعت پڑھے گا
حدیث نمبر: 6399
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، وَاسْتَسْقَى، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ". زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: " وَرَفَعَ يَدَيْهِ يَدْعُو، فَدَعَا وَاسْتَسْقَى ".
حافظ ثناء اللہ
عباد بن تمیم اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول مکرم ﷺ لوگوں کے ساتھ پانی طلب کرنے کے لیے نکلے، سو آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں بلند آواز میں قرات کی اور اپنی چادر کو پلٹایا اور پانی مانگا اور قبلے کی طرف منہ کیا، اس کے علاوہ نے اضافہ کیا ہے اور وہ عبد الرزاق سے بیان کرتے ہیں کہ اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے پانی طلب کیا۔
حدیث نمبر: 6400
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں حدیث بیان کی عبدالرزاق نے اور انہوں نے اس حدیث کا تذکرہ کچھ زیادتی (اضافے) کے ساتھ کیا۔
حدیث نمبر: 6401
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ هُوَ ابْنُ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَدَعَا اللهَ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلْبَ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ ". تَفَرَّدَ بِهِ النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول مکرم ﷺ (بارش) پانی طلب کرنے کے لیے نکلے تو آپ ﷺ نے اذان اور اقامت کے بغیر دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے چہرے کو قبلے کی طرف پھیرا اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے، پھر اپنی چادر کو پلٹایا اور دائیں جانب کو بائیں طرف کر لیا اور بائیں جانب کو دائیں طرف۔
حدیث نمبر: 6402
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ قَالَ: أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّا تَمَارَيْنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَرْسَلَكَ ابْنُ أَخِيكَ، وَلَوْ أَنَّهُ أَرْسَلَ فَسَأَلَ، مَا كَانَ بِذَاكَ بَأْسٌ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا، مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمْ يَخْطُبْ كَخُطْبَتِكُمْ هَذِهِ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ، وَالتَّضَرُّعِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي الْعِيدِ ". لَفْظُ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُوسَى، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ: الصَّوَابُ ابْنُ عُتْبَةَ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْحَدِيثُ يُوهِمُ أَنَّ دُعَاءَهُ كَانَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے اس شخص سے سنا جو وہ حدیث بیان کرتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عقبہ نے بھیجا (جو ان دنوں مدینہ کے امیر تھے) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف تاکہ میں ان سے رسول اللہ ﷺ کی «صَلَاةُ الِاسْتِسْقَاءِ» ”نمازِ استسقاء“ کا طریقہ پوچھوں، سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا: ہم مسجد میں آپ ﷺ کی نمازِ استسقاء کے بارے میں جھگڑ پڑے ہیں، تو انہوں نے کہا: ”نہیں بلکہ تمہیں تمہارے بھانجے نے بھیجا ہے، اگر اس نے بھیجا ہے تو اس نے ایسی بات کا سوال کیا ہے جس میں کوئی جھگڑا نہیں۔“ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ”آپ ﷺ معمولی لباس زیب تن کیے ہوئے، عاجزی و انکساری کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے یہاں تک کہ آپ ﷺ منبر پر بیٹھے اور تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہیں دیا لیکن آپ ﷺ دعا کرتے رہے، گڑگڑاتے رہے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کرتے رہے اور دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔“
یہ الفاظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث ہے وہ بھی انہی معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ ﷺ کی دعا نماز سے پہلے تھی اور یہ بات سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کہی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے کہا ہے: یہ حدیث یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ ﷺ کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے۔
یہ الفاظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث ہے وہ بھی انہی معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ ﷺ کی دعا نماز سے پہلے تھی اور یہ بات سفیان ثوری رحمہ اللہ نے کہی ہے۔
شیخ رحمہ اللہ نے کہا ہے: یہ حدیث یہ وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ ﷺ کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 6403
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كِنَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الْأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: مَنْ أَرْسَلَكَ؟ قُلْتُ: فُلَانٌ قَالَ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَأْتِيَنِي فَيَسْأَلَنِي؟ " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَاضِعًا، مُتَضَرِّعًا، مُتَذَلِّلًا، فَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ ". قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِلشَّيْخِ: الْخُطْبَةُ قَبْلَ الرَّكْعَتَيْنِ أَوْ بَعْدَهَا قَالَ: لَا أَدْرِي. فَهَذَا يَدُلُّ ⦗٤٨٥⦘ عَلَى أَنَّ هِشَامًا كَانَ لَا يَحْفَظُهُ، وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامٍ عَنْ جَدِّهِ مُحَالًا بِهَا عَلَى صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کہتے ہیں: امیروں میں سے ایک امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا تاکہ صلاۃ الاستسقاء کے متعلق ان سے پوچھوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تجھے کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: فلاں نے، تو انہوں نے کہا: اسے کس نے روکا ہے کہ وہ میرے پاس آئے اور پوچھے؟ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ ﷺ عاجزی کرتے ہوئے اور گڑگڑاتے ہوئے نکلے اور آپ ﷺ نے تمہارے اس خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا اور دو رکعتیں پڑھائیں، جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شیخ سے کہا: خطبہ دو رکعتوں سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ سو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہشام یاد نہیں رکھ سکتے تھے اور تحقیق اسے بیان کیا ہے اسماعیل بن ربیعہ بن ہشام نے اپنے دادا سے عیدین کی نماز پر محمول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے شیخ سے کہا: خطبہ دو رکعتوں سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ سو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ہشام یاد نہیں رکھ سکتے تھے اور تحقیق اسے بیان کیا ہے اسماعیل بن ربیعہ بن ہشام نے اپنے دادا سے عیدین کی نماز پر محمول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے۔
حدیث نمبر: 6404
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ السُّكَّرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَدِّهِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَسْقَى مُتَخَشِّعًا مُتَذَلِّلًا، كَمَا يَصْنَعُ فِي الْعِيدَيْنِ ". وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَبِيعَةَ بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے جب بارش طلب کی، خشوع و خضوع اور انکساری کرتے ہوئے جیسے آپ ﷺ عیدین میں کرتے رہے، اس کو عبداللہ بن یوسف تنیسی رحمہ اللہ نے اسماعیل بن ربیعہ رحمہ اللہ سے اسی معنیٰ میں روایت کیا۔
حدیث نمبر: 6405
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ قَالَ: أَرْسَلَنِي مَرْوَانُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ سُنَّةِ الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: " سُنَّةُ الِاسْتِسْقَاءِ سَنَةُ الصَّلَاةِ فِي الْعِيدَيْنِ، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَبُ رِدَاءَهُ، فَجَعَلَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ وَيَسَارَهُ عَلَى يَمِينِهِ، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، فَكَبَّرَ فِي الْأُولَى بِسَبْعِ تَكْبِيرَاتٍ، وَقَرَأَ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَقَرَأَ فِي الثَّانِيَةِ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَكَبَّرَ فِيهَا خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے مروان نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا تاکہ میں ان سے استسقاء کا طریقہ پوچھوں تو انہوں نے کہا کہ صلاۃِ استسقاء کا طریقہ وہی ہے جو صلاۃِ عیدین کا ہے سوا اس کے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر کو پلٹایا (پھیرا) اور دائیں جانب کو بائیں جانب اور بائیں جانب کو دائیں جانب کیا اور دو رکعتیں پڑھیں۔ پہلی رکعت میں آپ ﷺ نے سات تکبیرات کہیں اور سورہ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھی اور دوسری رکعت میں ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ [سورة الغاشية: 1] پڑھی اور اس میں پانچ تکبیرات کہیں۔
حدیث نمبر: 6406
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْخَالِقِ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السُّنَّةِ فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ: " مِثْلُ السُّنَّةِ فِي الْعِيدَيْنِ، خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَكَبَّرَ فِيهِمَا ثِنْتَيْ عَشْرَةَ تَكْبِيرَةً: سَبْعًا فِي الْأُولَى، وَخَمْسًا فِي الْآخِرَةِ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَخَطَبَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ اسْتَسْقَى ". مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ، وَهُوَ بِمَا قَبْلَهُ مِنَ الشَّوَاهِدِ يَقْوَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلحہ بن عبداللہ بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صلوٰۃ الاستسقاء کا طریقہ پوچھا تو انہوں نے کہا: ”عید کے طریقے کی طرح ہے، رسول اللہ ﷺ نکلے بارش طلب کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھائیں بغیر اذان و اقامت کے اور ان میں بارہ (١٢) تکبیرات کہیں، سات پہلی میں اور پانچ دوسری میں اور جہری قرأت کی۔ پھر آپ ﷺ پلٹے اور خطبہ دیا۔ پھر قبلے کی طرف منہ کیا اپنی چادر کو پلٹا اور بارش کی دعا کی۔“
حدیث نمبر: 6407
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي: أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ: خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اسْتَسْقَى، فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ، قُلْتُ: كَمْ غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " ⦗٤٨٦⦘ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً "، قُلْتُ: كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ؟ قَالَ: سَبْعَ عَشْرَةَ، قُلْتُ: فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا؟ قَالَ: ذَاتُ الْعُسَيْرَةِ أَوْ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بیشک عبداللہ بن یزید انصاری رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ بارش کی دعا کے لیے نکلے، سو انہوں نے دو رکعتیں پڑھائیں، پھر بارش کی دعا کی اور اس دن میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے ملا، میرے اور ان کے درمیان کوئی آدمی نہیں تھا یا انہوں نے کہا کہ میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی تھا۔ میں نے کہا: آپ ﷺ نے کتنے غزوات کیے؟ تو انہوں نے کہا: انیس غزوات۔ پھر میں نے کہا: آپ نے آپ ﷺ کے ساتھ کتنے غزوات کیے؟ تو انہوں نے کہا: سترہ۔ پھر میں نے کہا: پہلا غزوہ کون سا ہے جو آپ ﷺ نے لڑا؟ انہوں نے کہا: «ذَاتُ الْعَسِيرَةِ» یا پھر «ذَاتُ الْعُشَيْرَةِ» کہا۔