کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: دعا کی قبولیت کی امید میں مظالم سے نکلنے (حقوق العباد ادا کرنے) اور صدقہ اور نیک نوافل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6394
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا الطَّيِّبَ، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ " قَالَ: {يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ} [المؤمنون: ٥١]، وَقَالَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: ١٧٢]، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلُ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَقَدْ غُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہیں اور صرف پاکیزہ ہی کو قبول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾ [سورة المؤمنون: 51] ”اے رسولو! تم کھاؤ پاکیزہ چیزوں اور اعمالِ صالحہ کرو، جو تم اعمال کرتے ہو، بیشک میں جاننے والا ہوں“ اور یہ بھی فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ﴾ [سورة البقرة: 172] ”اے ایمان والو! کھاؤ تم پاکیزہ چیزوں سے جو ہم نے تمہیں رزق دیا ہے“ پھر آپ ﷺ نے تذکرہ کیا ایک ایسے شخص کا جو لمبا سفر کرتا ہے، غبار آلود اور پراگندہ بالوں والا، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اور «يَا رَبِّ، يَا رَبِّ» ”یا رب! یا رب!“ کہہ کر پکارتا ہے جبکہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام اور اس کی پرورش ہی حرام پر ہوئی تو اس کی دعا کیسے قبول کی جائے گی۔“
حدیث نمبر: 6395
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا زَالَ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي عَلَيْهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي عَبْدِي أَعْطَيْتُهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ ". وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. قَدْ أَخْرَجْتُهُ فِي كِتَابِ الْأَسْمَاءِ وَالصِّفَاتِ مَعَ تَأْوِيلِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جس نے میرے کسی دوست (ولی) سے دشمنی کی، اس نے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کیا، اور میرا کوئی بندہ کسی ایسی چیز کے ساتھ میرا قرب حاصل نہیں کرتا جو مجھے اس سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر فرائض فرض کیے ہیں، اور وہ ہمیشہ نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا وہ کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور وہ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اور اس کا وہ ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ چھوتا ہے، اور اس کے وہ پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دے دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے ضرور پناہ دے دیتا ہوں۔“
امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں محمد بن عثمان بن کرامتہ سے بیان کیا ہے۔
امام بخاری نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں محمد بن عثمان بن کرامتہ سے بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 6396
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الضَّبِّيُّ، أنبأ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ⦗٤٨٣⦘ هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فِي كُلِّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا إِلَّا امْرَأً بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ " قَالَ: " فَيُقَالُ: انْتَظِرْ هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ بِالْكُوفَةِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " انْظُرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا مَرَّتَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہر پیر اور جمعرات کو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کو معاف کیا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا مگر اس شخص کو معاف نہیں کرتا جس کے دل میں اپنے بھائی کے متعلق کینہ ہو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہا جاتا ہے: میں ان دونوں کو مہلت دیتا ہوں کہ وہ دونوں صلح صفائی کر لیں۔“
اور ہمیں حدیث بیان کی جریر نے، وہ سہل سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسی ہی حدیث بیان کی، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ صلح کر لیں“ اور یہ بات دو مرتبہ کہی جاتی ہے۔
اور ہمیں حدیث بیان کی جریر نے، وہ سہل سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسی ہی حدیث بیان کی، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ صلح کر لیں“ اور یہ بات دو مرتبہ کہی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 6397
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا بَشِيرُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا نَقْضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ إِلَّا كَانَ الْقَتْلُ بَيْنَهُمْ، وَمَا ظَهَرَتْ فَاحِشَةٌ فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ الْمَوْتَ، وَلَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ إِلَّا حَبَسَ اللهُ عَنْهُمُ الْقَطْرَ ". كَذَا رَوَاهُ بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی قوم کبھی بھی کسی عہد کو نہیں توڑتی مگر ان میں قتل ہوتا ہے اور کسی قوم میں کبھی فحاشی ظاہر نہیں ہوتی مگر اللہ ان پر موت کو مسلط کر دیتے ہیں اور کوئی قوم زکوٰۃ کو نہیں روکتی مگر اللہ تعالیٰ ان سے بارش کو روک لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 6398
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو حَاتِمٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " مَا نَقَضَ قَوْمٌ الْعَهْدَ قَطُّ إِلَّا سَلَّطَ اللهُ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ، وَلَا فَشَتِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ إِلَّا أَخَذَهُمُ اللهُ بِالْمَوْتِ، وَمَا طَفَّفَ قَوْمٌ الْمِيزَانَ إِلَّا أَخَذَهُمُ اللهُ بِالسِّنِينَ، وَمَا مَنَعَ قَوْمٌ الزَّكَاةَ إِلَّا مَنَعَهُمُ اللهُ الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَمَا جَارَ قَوْمٌ فِي حُكْمٍ إِلَّا كَانَ الْبَأْسُ بَيْنَهُمْ، أَظُنُّهُ قَالَ: وَالْقَتْلُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”کوئی قوم کبھی عہد نہیں توڑتی مگر اللہ تعالیٰ ان پر دشمن کو مسلط کر دیتا ہے اور کسی قوم میں بے حیائی نہیں پھیلتی مگر اللہ تعالیٰ ان کو موت کے ساتھ پکڑ لیتا ہے اور کوئی قوم ناپ تول میں کمی نہیں کرتی مگر اللہ سبحانہ ان پر قحط سالی مسلط کر دیتا ہے اور کوئی قوم زکوۃ کو نہیں روکتی مگر اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش کو روک لیتا ہے اور کوئی قوم اللہ کے حکم کو نہیں توڑتی مگر ان پر لڑائی مسلط ہو جاتی ہے“ میرا خیال ہے کہ انہوں نے لفظ ”قتل“ فرمایا۔