کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: استسقاء کے لیے روزہ رکھنے کے مستحب ہونے کا بیان کیونکہ روزے دار کی دعا (قبول ہونے) کی امید ہوتی ہے
حدیث نمبر: 6392
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَكْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ بَكْرٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ لَا تُرَدُّ، دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الصَّائِمِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین ایسی دعائیں ہیں جو لوٹائی نہیں جاتیں: باپ کی دعا، روزے دار کی دعا اور مسافر کی دعا۔“
حدیث نمبر: 6393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ: الْإِمَامُ الْعَادِلُ، وَالصَّائِمُ ⦗٤٨٢⦘ حَتَّى يُفْطِرَ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ: " وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین ایسے اشخاص ہیں جن کی دعا کو رد نہیں کیا جاتا: ۱۔ عادل حکمران، ۲۔ روزے دار جب تک افطار نہ کر دے اور ۳۔ مظلوم کی دعا بادلوں کے اوپر اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں: ”مجھے میری عزت کی قسم! میں تیری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ وقت کے بعد ہی۔““