کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: جس نے گرہن کی نماز (عام نماز کی طرح) دو رکعت پڑھی
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ. وَهَذَا خَبَرٌ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ تُوُفِّيَ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِدَلِيلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رحمہ اللہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6331
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1013»
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكَرَةَ قَالَ: " كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ وَثَابَ النَّاسُ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا انْكَشَفَ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ ". قَالَ: وَذَلِكَ أَنَّ ابْنًا لَهُ مَاتَ يُقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ فَقَالَ نَاسٌ فِي ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا مَعْمَرٍ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: " يُخَوِّفُ اللهُ بِهِمَا عِبَادَهُ "، وَقَدْ ذَكَرَهُ جَمَاعَةٌ وَقَوْلُهُ فِي الْحَدِيثِ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ مَعَ إِخْبَارِهِ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ يَوْمَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، يُرِيدُ بِهِ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ⦗٤٦٢⦘ رُكُوعَيْنِ كَمَا أَثْبَتَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةُ، وَجَابِرٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَغَيْرِهِ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، فَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا تُصَلُّونَ..
حافظ ثناء اللہ
(الف) حضرت حسن، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن لگا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔ نبی ﷺ اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے نکلے، یہاں تک کہ مسجد پہنچ گئے۔ لوگوں نے بھی جلدی کی تو آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی۔ جب گرہن ختم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتے ہیں۔ یہ کسی کی موت و زندگی کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے۔ جب تم سورج یا چاند کو دیکھو کہ انہیں گرہن لگا ہوا ہے تو نماز پڑھو یہاں تک کہ تمہاری یہ حالت دور ہو جائے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات اس وقت کہی جب لوگوں نے کہا کہ ایسا آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم کی وجہ سے ہوا ہے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں ابو معمر سے منقول ہے، انہوں نے «يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ» ”اللہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ج) آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، جب آپ ﷺ کے بیٹے ابراہیم فوت ہوئے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، جابر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے، لیکن یزید بن زریع وغیرہ یونس بن عبید سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے حدیث کے بارے میں کہا کہ انہوں نے دو رکعت نماز پڑھائی جیسے تم پڑھتے ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6332
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري1014»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا دَاودُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ: " كَمَا تُصَلُّونَ ". إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مَوْتَ ابْنِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ. وَصَلَاةُ الْخُسُوفِ كَانَتْ مَشْهُورَةً فِيمَا بَيْنَهُمْ فَأَشَارَ إِلَيْهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن زریع رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جیسے تم نماز پڑھتے ہو، لیکن انہوں نے آپ ﷺ کے بیٹے کی وفات کا ذکر نہیں کیا اور نمازِ خسوف ان کے ہاں مشہور تھی، اس کی طرف اشارہ کر دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6333
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمٍ لِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ، وَيَحْمَدُ، وَيُهَلِّلُ، وَيُكَبِّرُ، وَيَدْعُو، حَتَّى حَسَرَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيِّ. وَقَوْلُهُ: " فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ " يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ مُرَادُهُ بِذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَقَدْ رُوِّينَاهُ عَنْ جَمَاعَةٍ أَثْبَتُوهُ، وَالْمُثْبَتُ شَاهِدٌ، فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے تیروں کے ساتھ نبی ﷺ کی زندگی میں کھیل رہا تھا۔ اچانک سورج گرہن لگا، میں نے ان کو پھینک دیا اور میں نے کہا: ”میں ضرور دیکھوں گا کہ آج سورج گرہن کے موقع پر نبی ﷺ کیا کرتے ہیں۔“ میں آپ ﷺ تک پہنچا، آپ ﷺ اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تسبیح، تحمید، تحلیل و تکبیر اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج گرہن ختم ہو گیا، آپ ﷺ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھائی۔
(ب) آپ ﷺ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز پڑھائی، اس سے یہ مراد ہو سکتا ہے کہ آپ ﷺ نے ہر رکعت میں دو رکوع کیے جیسا کہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6334
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 913»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ، فَلَمَّا انْجَلَتْ قَالَ: " إِنَّ نَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَجَلَّى لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ ". هَذَا مُرْسَلٌ، أَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النُّعْمَانِ وَلَيْسَ فِيهِ هَذِهِ اللَّفْظَةُ الْأَخِيرَةُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ گھبرائے ہوئے اپنے کپڑے کو کھینچتے ہوئے مسجد آئے۔ آپ ﷺ نماز میں مشغول رہے، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا، جب سورج روشن ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کا یہ گمان ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے کی موت کی وجہ سے بے نور ہوتے ہیں، حالانکہ اس طرح نہیں بلکہ سورج اور چاند کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں سے جب کسی چیز کو روشن فرماتے ہیں تو وہ اس کے لیے خشوع و خضوع اختیار کرتی ہے، جب تم ان کو دیکھو تو فرض نماز کی طرح نماز پڑھو۔“
یہ روایت مرسل ہے، ابوقلابہ نے اسے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، بلکہ ایک آدمی کے واسطے سے نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ آخری الفاظ نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6335
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابو داؤد 1193»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيُسَلِّمُ حَتَّى انْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَقُولُونَ إِذَا كَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا: إِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللهِ، فَإِذَا تَجَلَّى اللهُ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا ". وَرَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ الْبَصْرِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ فِيهِ: فَجَعَلَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَسَأَلَ عَنْهَا حَتَّى انْجَلَتْ. وَرَوَاهُ الْحَسَنُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ خَالِيًا عَنْ هَذِهِ الْأَلْفَاظِ الَّتِي تُوهِمُ خِلَافًا، وَخَالِيًا عَنْ لَفْظِ التَّجَلِّي.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا۔ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا، یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ جب سورج بے نور ہوتا ہے تو اہل زمین میں کسی بڑے کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (آپ ﷺ نے فرمایا:) ”حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے، لیکن یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے ہیں، جب اللہ اپنی مخلوق سے کسی کو روشن کرتا ہے تو وہ اس سے ڈرتی ہے اور جب تم اس طرح دیکھو تو نماز پڑھو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6336
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ احمد 4/367»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُسْتَعْجِلًا يَجُرُّ رِدَاءَهُ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، وَقَدِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّى حَتَّى انْجَلَتْ، وَقَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْأَرْضِ، وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُحْدِثُ اللهُ فِي خَلْقِهِ مَا يَشَاءُ، فَأَيُّهُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ أَوْ يُحْدِثَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَمْرًا ". هَذَا أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا، وَقَدْ قِيلَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے جلدی مسجد کی طرف آئے اور سورج گرہن ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند زمین والوں میں سے کسی بڑے کی وجہ سے بے نور ہوتے ہیں، حالانکہ سورج اور چاند کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، کیونکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہے کرتا ہے، تو ان میں سے جو بھی بے نور ہو تو تم نماز پڑھو، یہاں تک کہ یہ روشن ہو جائے یا پھر اللہ کوئی اور صورت نکال دیں۔“
یہ روایت محفوظ ہونے کے زیادہ مشابہ ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابوقلابہ عن قبیصہ ہلالی سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6337
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ نسائي 1490»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيِّ قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ أَطَالَ فِيهِمَا الْقِيَامَ، قَالَ: وَانْجَلَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْآيَاتُ تَخْوِيفًا يُخَوِّفُ اللهُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوا كَأَحْدَثِ صَلَاةٍ صَلَّيْتُمُوهَا مِنَ الْمَكْتُوبَةِ ". لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ وُهَيْبٍ: تَخْوِيفًا، وَزَادَ فِي أَوَّلِهِ: " فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَئِذٍ بِالْمَدِينَةِ " وَهَذَا أَيْضًا لَمْ يَسْمَعْهُ أَبُو قِلَابَةَ عَنْ قَبِيصَةَ، إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ رَجُلٍ عَنْ قَبِيصَةَ "..
حافظ ثناء اللہ
قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا، آپ ﷺ نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ان دو رکعت میں قیام کو لمبا کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ سورج روشن ہو گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ نشانیاں ہیں ان کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس جب تم ان کو دیکھو تو نماز پڑھو جیسا کہ تم فرض نماز پڑھتے ہو۔“
یہ روایت بھی ابوقلابہ نے قبیصہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنی، بلکہ ایک آدمی کے واسطے سے قبیصہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6338
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔1185»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا رَيْحَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ قَبِيصَةَ الْهِلَالِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ. بِمَعْنَى حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ. قَالَ: حَتَّى بَدَتِ النُّجُومُ. ⦗٤٦٥⦘ فَأَلْفَاظُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا رَاجِعَةٌ إِلَى الْإِخْبَارِ عَنْ صَلَاتِهِ يَوْمَ تُوُفِّيَ ابْنُهُ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَقَدْ أَثْبَتَ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ الْحُفَّاظِ عَدَدَ رُكُوعِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَهُوَ أَوْلَى بِالْقَبُولِ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ لَمْ يُثْبِتْهُ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ. وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ احْتِجَاجَ مَنِ احْتَجَّ بِحَدِيثِ أَبِي بَكَرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْكُسُوفِ رَكْعَتَيْنِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ ". وَحَدِيثُ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ فِي مَعْنَاهُ، وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى، وَحَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، ثُمَّ رَجَّحَ أَحَادِيثَنَا بِأَنَّ الْجَائِيَّ بِالزِّيَادَةِ أَوْلَى أَنْ يُقْبَلَ قَوْلُهُ، لِأَنَّهُ أَثْبَتُ مَا لَمْ يَثْبُتِ الَّذِي نَقَصَ الْحَدِيثَ، وَبِأَنَّ إِسْنَادَنَا فِي حَدِيثِنَا مِنْ أَثْبَتِ إِسْنَادِ النَّاسِ. أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) قبیصہ ہلالی رضی اللہ عنہ موسیٰ بن اسماعیل کی حدیث کے ہم معنی بیان فرماتے ہیں کہ سورج گرہن لگا یہاں تک کہ ستارے ظاہر ہو گئے۔ یہ تمام احادیث کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں جو نبی ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن نماز پڑھائی تھی۔ حفاظ کے اصحاب کی ایک جماعت نے ہر رکعت میں آپ ﷺ کے رکوع کی تعداد ثابت کی ہے، لہٰذا ان کی روایت اس شخص کی روایت سے زیادہ قبول کیے جانے کے لائق ہے جس نے اسے ثابت نہیں کیا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ نے ان لوگوں کے استدلال کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے دلیل لی کہ نبی ﷺ نے نمازِ کسوف دو رکعت ”تمہاری نماز کی طرح“ پڑھائی، اور حدیثِ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے جو اسی معنی میں ہے، اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے۔ پھر امام شافعی رحمہ اللہ نے ہماری احادیث کو ترجیح دی، کیونکہ زیادتی بیان کرنے والے کی بات قبول کیے جانے کے زیادہ لائق ہے، اس لیے کہ اس نے وہ چیز ثابت کی ہے جو حدیث کو کم بیان کرنے والے نے ثابت نہیں کی، اور اس لیے کہ ہماری حدیث کی سند لوگوں کی سب سے زیادہ ثابت سندوں میں سے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة الخسوف / حدیث: 6339
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ الطبراني في كبير 9571»