کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول کہ سورج گرہن کی نماز میں آہستہ قراءت کی جائے گی
حدیث نمبر: 6340
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ جَمِيعًا، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا بِنَحْوٍ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ". وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُصْعَبٍ: " قَرَأَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ. فِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مَا قَرَأَ، لِأَنَّهُ لَوْ سَمِعَهُ لَمْ يُقَدِّرْهُ بِغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو نبی ﷺ نے نماز پڑھی اور لوگ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے سورت بقرہ کی قراءت کے بقدر لمبا قیام کیا اور ابو مصعب کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے سورت بقرہ کی مانند تلاوت کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس بات پر دلیل ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کی قراءت کو نہیں سنا۔ اگر انہوں نے سنا ہوتا تو وہ اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کا اندازہ نہ کرتے۔
حدیث نمبر: 6341
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْكُسُوفِ فَلَمْ نَسْمَعْ لَهُ صَوْتًا ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نمازِ کسوف پڑھائی، ہم نے آپ کی آواز کو نہیں سنا۔
حدیث نمبر: 6342
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ قَالَ: قُرِئَ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ وَأنا أَسْمَعُ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّادٍ يَعْنِي ثَعْلَبَةَ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُسُوفِ الشَّمْسِ، قَالَ: " فَاسْتَقْدَمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَقَامَ كَأَطْوَلِ مَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ثعلبہ رحمہ اللہ جو بنو عبد القیس سے ہیں، وہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے خطبے میں نبی اکرم ﷺ کی نماز خسوف کے متعلق بیان کیا، فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے لمبا قیام کیا جیسا کہ آپ ﷺ اپنی نمازوں میں کیا کرتے تھے، ہم نے آپ کی آواز کو نہ سنا، آپ نے اتنا لمبا رکوع کیا جتنا کہ آپ کیا کرتے تھے، پھر بھی ہم نے آپ کی آواز کو نہ سنا، پھر آپ ﷺ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔
حدیث نمبر: 6343
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ اللَّيْثِ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، كُلٌّ قَدْ حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ فَرَأَيْتُ أَنَّهَ قَرَأَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ فَرَأَيْتُ أَنَّهَ قَرَأَ سُورَةَ آلِ عِمْرَانَ ". وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، بَعْدَ قَوْلِهَا بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ: ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ قَصَدَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَصْفَ الْقِرَاءَةِ دُونَ وَصْفِ عَدَدِ الرُّكُوعِ وَالْقِيَامِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا، آپ ﷺ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ میں نے آپ کی قراءت کا اندازہ کیا، میں نے دیکھا کہ آپ نے سورہ بقرہ پڑھی ہے، پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کیے، پھر آپ ﷺ نے قیام کیا اور لمبی قراءت کی۔ میں نے آپ ﷺ کی قراءت کا اندازہ کیا تو میں نے خیال کیا کہ آپ نے سورہ آل عمران پڑھی ہے۔