کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے گرہن کی نماز دو رکعت پڑھنے کی اجازت دی اس طور پر کہ ہر رکعت میں چار رکوع ہوں
حدیث نمبر: 6322
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: زَادَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ فِيهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: وَعَنْ عَلِيٍّ مِثْلُ ذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَذَكَرَ فِيهِ عَلِيًّا.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 6323
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ وَفِي الْأُخْرَى مِثْلَهَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَغَيْرِهِ عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ. وَأَمَّا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فَإِنَّهُ أَعْرَضَ عَنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ الَّتِي فِيهَا خِلَافُ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نمازِ کسوف پڑھائی۔ آپ ﷺ نے قرأت کی۔ پھر رکوع کیا، پھر قرأت کی، پھر رکوع کیا۔ پھر قرأت کی۔ پھر رکوع کیا۔ پھر قرأت کی۔ پھر رکوع کیا، پھر سجدہ کیا اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔
(ب) کثیر بن عباس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
(ج) طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا عمل نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نماز میں چھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ لیکن سر اٹھانے اور تعداد میں اختلاف ہے۔
(ب) کثیر بن عباس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان کو دو رکعت نماز پڑھائی اور ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔
(ج) طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کا عمل نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نماز میں چھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ لیکن سر اٹھانے اور تعداد میں اختلاف ہے۔
حدیث نمبر: 6324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ قَالَ: فَقَالَ يَعْنِي بَعْضَ مَنْ كَانَ يُنَاظِرُهُ: رَوَى بَعْضُكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ". قُلْتُ لَهُ: هُوَ مِنْ وَجْهٍ مُنْقَطِعٌ وَنَحْنُ لَا نُثْبِتُ الْمُنْقَطِعَ عَلَى الِانْفِرَادِ وَوَجْهٌ نَرَاهُ وَاللهُ أَعْلَمُ غَلَطًا، قَالَ: وَهَلْ يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ صَلَاةُ ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، قُلْنَا: نَعَمْ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ بعض لوگ ان سے مناظرہ کرتے ہیں کہ بعض نے روایت کیا کہ ”نبی ﷺ نے ہر رکعت میں تین رکوع کیے۔“ میں نے کہا: یہ حدیث منقطع ہے اور منقطع حدیث ہمارے نزدیک انفراد کے طریق سے ثابت نہیں ہوتی۔ «وَاللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے۔“ فرماتے ہیں کہ کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کوئی ایسی روایت منقول ہے کہ انہوں نے ایک رکعت میں تین رکوع کیے ہوں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ سلیمان احوال بیان کرتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سنا کہ نبی ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہوا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ نماز پڑھائی۔ فرماتے ہیں کہ زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ سند زیادہ ثابت ہے سلیمان احوال عن طاؤس عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے۔ اسی طرح صفوان بن عبداللہ بن صفوان فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے زمزم کے نزدیک نمازِ کسوف ادا کی تو ہر رکعت میں دو دو رکوع کیے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کبھی بھی نبی ﷺ کی نمازِ خسوف کے خلاف نماز نہ پڑھاتے۔ تینوں روایات کو ہی قبول کیا جائے گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے زلزلے کے وقت ہر رکعت میں تین رکوع کے ساتھ نماز پڑھائی۔
(ج) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک نمازِ کسوف چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھنا زیادہ صحیح ہے، یعنی ہر رکعت میں دو رکوع کرنا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کبھی بھی نبی ﷺ کی نمازِ خسوف کے خلاف نماز نہ پڑھاتے۔ تینوں روایات کو ہی قبول کیا جائے گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے زلزلے کے وقت ہر رکعت میں تین رکوع کے ساتھ نماز پڑھائی۔
(ج) محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے نزدیک نمازِ کسوف چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھنا زیادہ صحیح ہے، یعنی ہر رکعت میں دو رکوع کرنا۔
حدیث نمبر: 6325
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ كُسُوفِ الشَّمْسِ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ كَمَا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ كَمَا رَكَعَ، صَنَعَ ذَلِكَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَمْ يَقْرَأْ بَيْنَ الرُّكُوعِ ". مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَرُوِيَ خَمْسُ رُكُوعَاتٍ فِي رَكْعَةٍ بِإِسْنَادٍ لَمْ يَحْتَجُّ بِمِثْلِهِ صَاحِبَا الصَّحِيحِ، وَلَكِنْ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، وَهُوَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے سورج گرہن کے وقت لوگوں کو نماز پڑھائی۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور تکبیر کہی، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا جتنی دیر قراءت کی تھی۔ پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر آپ ﷺ نے اس طرح چار رکوع کیے سجدہ کرنے سے پہلے، پھر آپ ﷺ نے دو سجدے کیے، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو اسی طرح کیا اور رکوع کے درمیان قراءت نہیں کی۔
(ب) بعض روایات میں ایک رکعت میں پانچ رکوع کا تذکرہ بھی آیا ہے، لیکن وہ قابل حجت نہیں ہے۔
(ب) بعض روایات میں ایک رکعت میں پانچ رکوع کا تذکرہ بھی آیا ہے، لیکن وہ قابل حجت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6326
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قَالُوا: أنبأ رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطِّوَالِ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ، فَقَرَأَ سُورَةً مِنَ الطِّوَالِ، وَرَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى تَجَلَّى كُسُوفُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابوالعالیہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دور میں سورج گرہن لگا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ ﷺ نے طوال کی سورتوں میں سے ایک سورہ پڑھی اور آپ ﷺ نے پانچ رکوع کیے، پھر دو سجدے کیے۔ پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور آپ ﷺ نے طوال کی سورتوں میں سے کوئی سورہ پڑھی اور آپ ﷺ نے پانچ رکوع کیے، پھر دو سجدے کیے۔ پھر قبلہ رخ ہو کر بیٹھے رہے، آپ ﷺ نے دعا کی یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نمازِ کسوف پانچ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی۔
(ب) حسن بصری رحمہ اللہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نمازِ کسوف پانچ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی۔
حدیث نمبر: 6327
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ بِذَلِكَ. وَيُذْكَرُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ہر رکعت میں چار رکوع کیے۔
حدیث نمبر: 6328
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ، ثنا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَخَرَجَ فَصَلَّى بِمَنْ عِنْدَهُ فَقَرَأَ سُورَةَ الْحَجِّ، وَيس، لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ، وَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ فِي الرَّابِعَةِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْحَجِّ وَيس، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ كَمَا صَنَعَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَعَدَ فَدَعَا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَافَقَ انْصِرَافُهُ وَقَدِ انْجَلَى عَنِ الشَّمْسِ ". لَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ عَنِ الْحَكَمِ فَرَفَعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حنش بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں سورج گرہن لگا تو انہوں نے نماز پڑھائی جو ان کے پاس تھے اور اس میں سورہ حج اور سورہ یٰسین کی تلاوت کی، مجھے معلوم نہیں کہ ان دو سورتوں میں سے کس کو پہلے پڑھا اور بلند آواز سے قراءت کی۔ پھر اپنے قیام کی مقدار کے مطابق رکوع کیا۔ پھر اپنا سر اٹھایا، پھر جتنی دیر کھڑے رہے قیام کیا تھا، پھر رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر اپنے قیام کے مطابق کھڑے رہے، پھر اپنے قیام کے مطابق رکوع کیا اور چوتھی مرتبہ کے بعد پھر سجدہ کیا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے، سورہ حج اور سورہ یٰسین کی تلاوت کی۔ پھر کھڑے ہوئے انہوں نے اس رکعت میں پہلی رکعت ہی کی طرح کیا، انہوں نے آٹھ رکوع اور چار سجدے کیے۔ پھر بیٹھ گئے، دعا کی پھر چلے گئے۔ ان کے پھرتے ہی سورج روشن ہو گیا۔
حدیث نمبر: 6329
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ، بِوَاسِطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الطَّنَافِسِيُّ قَالُوا: ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالَ لَهُ حَنَشٌ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ، فَقَرَأَ بِ يس وَنَحْوِهَا، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ السُّورَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ سَمِعَ اللهَ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا حَتَّى رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى، ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيَرْغَبُ حَتَّى انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ "..
حافظ ثناء اللہ
حنش، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سورج گرہن لگا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اس میں سورة یٰسین یا اس کی مثل قراءت کی، پھر اپنی قراءت کے مطابق رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر کھڑے ہوئے پھر سورة (یٰسین) کے اندازے کے مطابق قیام کیا اور دعا کرتے رہے اور آپ نے تکبیر کہی، پھر اپنی قراءت کے مثل لمبا رکوع کیا، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر سورة کے اندازے کے مطابق قیام کیا، پھر اس قدر ہی رکوع کیا، یہاں تک کہ چار رکوع ہو گئے، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی تعریف کرنے والے کی پکار سن لی“ کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے اور اس میں پہلی رکعت کی طرح ہی کیا، پھر بیٹھے ہوئے دعا کرتے رہے، پھر آپ ترغیب دیتے رہے یہاں تک کہ سورج روشن ہو گیا، پھر انہیں بتایا کہ نبی ﷺ نے بھی ایسا کیا تھا۔
حدیث نمبر: 6330
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، قَالَ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَبُو الْمُعْتَمِرِ الْكِنَانِيُّ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَنَشُ بْنُ رَبِيعَةَ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، رَوَى عَنْهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ، يَتَكَلَّمُونَ فِي حَدِيثِهِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ، سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْهُ: حَنَشُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ. ⦗٤٦١⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَمِنْ أَصْحَابِنَا مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَصْحِيحِ الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ فِي هَذِهِ الْأَعْدَادِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهَا مَرَّاتٍ مَرَّةً رُكُوعَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَمَرَّةً ثَلَاثَ رُكُوعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَمَرَّةً أَرْبَعَ رُكُوعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَأَدَّى كُلٌّ مِنْهُمْ مَا حَفِظَ وَأَنَّ الْجَمِيعَ جَائِزٌ وَكَأَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزِيدُ فِي الرُّكُوعِ إِذَا لَمْ يَرَ الشَّمْسَ قَدْ تَجَلَّتْ ذَهَبَ إِلَى هَذَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، وَمَنْ بَعْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، وَأَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ، وَاسْتَحْسَنَهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ صَاحِبُ الْخِلَافِيَّاتِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَالَّذِي أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ مِنَ التَّرْجِيحِ أَصَحُّ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
شیخ فرماتے ہیں کہ جو تعداد نبی اکرم ﷺ سے صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے کئی مرتبہ ایک رکعت میں دو رکوع کیے اور کبھی ایک میں تین، کبھی چار رکوع کیے، تو جس کو جو یاد تھا اس نے وہی بیان کر دیا۔ یہ تمام صورتیں جائز ہیں۔ آپ ﷺ نے رکوع اس وقت زیادہ کیے، جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ سورج گرہن ختم نہیں ہو رہا۔