کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام عید الاضحیٰ کے خطبے میں لوگوں کو سکھائے کہ وہ کس طرح قربانی کریں، اور یہ کہ جس نے امام کی قربانی کا وقت واجب ہونے سے پہلے قربانی کر لی اس پر اس کا دہرانا لازم ہے
حدیث نمبر: 6262
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَقَالَ: " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا، وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَتِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ "، فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ نَسَكْتُ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الصَّلَاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، فَتَعَجَّلْتُ فَأَكَلْتُ وَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ "، قَالَ: فَإِنَّ عِنْدِي عَنَاقَ جَذَعَةٍ هُوَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَهَلْ تَجْزِي عَنِّي؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ هَنَّادٍ وَقُتَيْبَةَ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن نماز کے بعد ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: ”جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی تو اس نے قربانی کو پالیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو یہ گوشت کی بکری ہے۔“ سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میں نے نماز کی طرف آنے سے پہلے ہی قربانی کر دی اور میں پہچانتا تھا کہ آج کھانے پینے کا دن ہے، میں نے جلدی کی اور میں نے خود بھی کھایا اور اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ گوشت کی بکری ہے۔“ عرض کیا: میرے پاس بکری کا ایک بچہ ہے جو گوشت والی دو بکریوں سے بھی اچھا ہے، کیا وہ مجھ سے کفایت کر جائے گا؟ فرمایا: ”ہاں، لیکن تیرے بعد کسی سے کفایت نہیں کرے گا۔“
حدیث نمبر: 6263
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحَى إِلَى الْبَقِيعِ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ "، فَقَامَ خَالِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: " اذْبَحْهَا ثُمَّ لَا تُوَفِّي جَذَعَةٌ بَعْدَكَ ". قَالَ زُبَيْدٌ: فَسَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِنَا أَنَّهُ قَالَ: عَنَاقُ جَذَعَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ زُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الاضحی کے دن بقیع کی جانب آئے، آپ ﷺ نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”آج کے دن ہمارا پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز سے ابتدا کریں، پھر ہم قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا، اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ گوشت ہے، اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی کی ہے، قربانی نہیں۔“ میرے ماموں کھڑے ہو کر کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی ذبح کر دی ہے اور میرے پاس «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ ہے جو «مُسِنَّةٌ» ”مسنہ“ سے بہتر ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے ذبح کر لے، تیرے بعد کسی سے «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ کفایت نہ کرے گی۔“
زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ ”بکری کا «جَذَعَةٌ» ”جذعہ““۔
زبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض ساتھیوں سے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ ”بکری کا «جَذَعَةٌ» ”جذعہ““۔
حدیث نمبر: 6264
أَخْبَرَنَا ابْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَسْوَدِ، سَمِعَ جُنْدُبًا يَقُولُ: " شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ أَضْحَى فَقَالَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ مِنْكُمْ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ مَكَانَ ذَبِيحَتِهِ أُخْرَى، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللهِ ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
اسود نے جندب رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ عید الاضحی کے دن حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا، وہ اپنے ذبیحہ کی جگہ دوسرا جانور قربان کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“