کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول کہ بقر عید میں یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کی ظہر کی نماز کے بعد سے ایامِ تشریق کے آخری دن کی فجر کی نماز کے بعد تک تکبیر کہے، پھر بند کر دے، اس دلیل کی بنا پر کہ شہروں کے لوگ اہلِ منیٰ کے تابع ہیں، اور حاجی کا ذکر تلبیہ ہے یہاں تک کہ وہ یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کر لے، پھر اس کا ذکر تکبیر ہے
حدیث نمبر: 6265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، وَأَبُو عَاصِمٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِهِ، هَذَا أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أنبأ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى ابْنُ خَشْرَمٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزدلفہ سے لوٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پیچھے فضل رضی اللہ عنہما سوار تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ فضل رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ ”رسول اللہ ﷺ ہمیشہ تلبیہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔“
حدیث نمبر: 6266
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ خَالِدٌ: فَلَقِيتُ أَبَا مَلِيحٍ فَسَأَلْتُهُ، فَحَدَّثَنِي بِهِ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللهِ". ⦗٤٣٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
خالد کہتے ہیں کہ میں ابو ملیح سے ملا، میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کیا کہ ”ایامِ تشریق کھانے، پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔“
حدیث نمبر: 6267
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " كَانَ يُكَبِّرُ فِي قُبَّتِهِ بِمِنًى فَيَسْمَعُهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَيُكَبِّرُونَ، فَيَسْمَعُهُ أَهْلُ السُّوقِ فَيُكَبِّرُونَ، حَتَّى تَرْتَجَّ مِنًى تَكْبِيرًا وَاحِدًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منیٰ کے اندر اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے، مسجد والے اس کو سنتے اور تکبیریں کہتے، ان کو بازار والے سنتے اور تکبیریں کہتے، یہاں تک کہ منیٰ تکبیروں سے گونج اٹھتا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ان تمام ایامِ (تشریق) میں نمازوں کے بعد تکبیر کہتے، خواہ بستر پر ہوتے، خیمے میں ہوتے، بیٹھے ہوتے یا چل رہے ہوتے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ ان تمام ایامِ (تشریق) میں نمازوں کے بعد تکبیر کہتے، خواہ بستر پر ہوتے، خیمے میں ہوتے، بیٹھے ہوتے یا چل رہے ہوتے۔
حدیث نمبر: 6268
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ يَعْنِي: مُحَمَّدَ بْنَ نَصْرٍ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، عَنْ وَكِيعٍ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن ظہر کی نماز سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن فجر کی نماز تک تکبیریں کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 6269
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو النَّيْسَابُورِيُّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نحر کے دن ظہر کی نماز سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن نمازِ عصر تک تکبیریں کہا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 6270
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ فِرَاسٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدُّبَيْلِيُّ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ " يُكَبِّرُ يَوْمَ الصَّدْرِ، وَيَأْمُرُ مَنْ حَوْلِهِ أَنْ يُكَبِّرُوا، فَلَا أَدْرِي تَأَوَّلَ قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ} [البقرة: ٢٠٣] أَوْ قَوْلَهَ {فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ} [البقرة: ٢٠٠] ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ دن کے ابتدائی حصہ میں اپنے اردگرد کے لوگوں کو تکبیریں کہنے کا حکم دیتے۔ میں نہیں جانتا انہوں نے اللہ رب العزت کے اس قول کی کیا تاویل کی
﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 203]
”تم اللہ کا ذکر شمار کیے ہوئے دنوں میں کرو۔“
یا اللہ کا فرمان: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 200]
”جب تم مناسکِ حج ادا کرلو۔“
عبدالحمید بن ابی رباح رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن ظہر سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ائمہ قربانی کے دن نمازِ ظہر سے تکبیروں کی ابتدا فرماتے اور ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔
﴿وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 203]
”تم اللہ کا ذکر شمار کیے ہوئے دنوں میں کرو۔“
یا اللہ کا فرمان: ﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكُكُمْ﴾ [سورة البقرة: 200]
”جب تم مناسکِ حج ادا کرلو۔“
عبدالحمید بن ابی رباح رحمہ اللہ ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ قربانی کے دن ظہر سے لے کر ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ائمہ قربانی کے دن نمازِ ظہر سے تکبیروں کی ابتدا فرماتے اور ایامِ تشریق کے آخری دن تک تکبیریں کہتے۔