کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام کسی کو حکم دے کہ وہ کمزور لوگوں کو عید کی نماز مسجد میں پڑھائے
أَخْبَرَنَاهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَيْسٍ يُحَدِّثُ عَنْ هُزَيْلٍ، أَنَّ عَلِيًّا " أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يُصَلِّيَ بِضَعَفَةِ النَّاسِ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ يَوْمَ أَضْحَى، وَأَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ أَرْبَعًا ". وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ رَكْعَتَيْنِ تَحِيَّةَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكْعَتَيِ الْعِيدِ مَفْصُولَتَيْنِ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
ہذیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کمزور لوگوں کو مسجد میں پڑھائے اور چار رکعت پڑھائے۔
احتمال ہے کہ اس سے مراد دو رکعت تحیۃ المسجد ہوں، پھر دو رکعت نماز عید جو ان سے الگ ہوں۔
احتمال ہے کہ اس سے مراد دو رکعت تحیۃ المسجد ہوں، پھر دو رکعت نماز عید جو ان سے الگ ہوں۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " صَلُّوا يَوْمَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، رَكْعَتَانِ لِلسُّنَّةِ، وَرَكْعَتَانِ لِلْخُرُوجِ ".
حافظ ثناء اللہ
حنش بن معتمر فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عید کے دن مسجد میں چار رکعت ادا کرو، دو رکعت سنت اور دو رکعت نکلنے کے لیے۔
ابو اسحاق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ عید کے دن مسجد میں کمزور لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھائے۔
ابو اسحاق سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ عید کے دن مسجد میں کمزور لوگوں کو چار رکعت نماز پڑھائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ⦗٤٣٥⦘ وَاللَّفْظُ لِأَبِي غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ إِلَى الْمُصَلَّى، قَالَ: وَالْخُرُوجُ يَوْمَ الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ، وَلَا يَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ إِلَّا ضَعِيفٌ أَوْ مَرِيضٌ "، زَادَ مُعَاوِيَةُ: " لَكِنِ اخْرُجُوا إِلَى الْمُصَلَّى وَلَا تَحْبِسُوا النِّسَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
حارث اعور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”عید گاہ کی طرف پیدل چل کر جانا سنت ہے“۔ ”عیدین کے دن نکلنا بھی سنت ہے“۔ ”مسجد میں صرف ضعیف اور مریض لوگ جائیں“۔ راوی معاویہ بن عمرو نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ”تم عید گاہ کی طرف نکلو اور اپنی عورتوں کو منع نہ کرو“۔