کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عید الفطر کی رات، عید الفطر کے دن اور جب عیدین کی نماز کے لیے نکلے تو تکبیر کہنے کا بیان
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ {وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ} [البقرة: 185].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا ماہِ رمضان کے بارے میں فرمان ہے: ﴿وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ﴾ ”اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی اس بات پر بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت بخشی۔“ [سورة البقرة: 185]
قَالَ الشَّافِعِيُّ: سَمِعْتُ مَنْ أَرْضَى مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ يَقُولُ: " فَتُكْمِلُوا عِدَّةَ صَوْمِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَتُكَبِّرُوا اللهَ عِنْدَ إِكْمَالِهِ عَلَى مَا هَدَاكُمْ، وَإِكْمَالُهُ مَغِيبُ الشَّمْسِ مِنْ آخِرِ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ شَهْرِ رَمَضَانَ ". أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أنبأ الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قرآن کے ان اہل علم میں سے، جن سے میں راضی ہوں، ایک کو یہ کہتے سنا: ”تم ماہِ رمضان کے روزوں کی گنتی پوری کرو اور اس کے پورا ہونے پر اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، اور اس کا پورا ہونا ماہِ رمضان کے آخری دن سورج کا غروب ہونا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ مُصَفَّى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ثِقَةٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ لَيْلَةَ الْفِطْرِ حَتَّى يَغْدُوَ إِلَى الْمُصَلَّى ". ذِكْرُ اللَّيْلَةِ فِيهِ غَرِيبٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عید الفطر کی رات اور جاتے وقت تکبیریں کہتے تھے۔ رات کا ذکر اس میں غریب ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى، وَيُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْإِمَامُ ". ⦗٣٩٥⦘ وَرَوَاهُ ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ وَقَالَ: يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى " وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ. مَوْقُوفٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهَيْنِ ضَعِيفَيْنِ مَرْفُوعًا، أَمَّا أَمْثَلُهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عید الفطر کی صبح مسجد سے عید کے لیے جاتے تو بلند آواز سے تکبیر کہتے، عید گاہ تک پہنچنے تک کہتے رہتے اور امام کے آنے تک بھی تکبیریں کہتے رہتے۔
یہی (ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا عمل، یعنی موقوف ہونا) صحیح ہے، اور یہ دو ضعیف سندوں سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔
یہی (ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا عمل، یعنی موقوف ہونا) صحیح ہے، اور یہ دو ضعیف سندوں سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔
فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثنا عَمِّي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ فِي الْعِيدَيْنِ مَعَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللهِ، وَالْعَبَّاسِ، وَعَلِيٍّ، وَجَعْفَرٍ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَأَيْمَنَ بْنِ أُمِّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّهْلِيلِ وَالتَّكْبِيرِ، فَيَأْخُذُ طَرِيقَ الْحَدَّادِينِ حَتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى، وَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ عَلَى الْحَذَّائِينَ حَتَّى يَأْتِيَ مَنْزِلَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ عیدین میں فضل بن عباس، عبداللہ بن عباس، عباس، علی، جعفر، حسن، حسین، اسامہ بن زید، زید بن حارثہ اور ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلتے تھے اور وہ تکبیر و تہلیل سے اپنی آواز کو بلند فرماتے تھے۔ لوہاروں کے راستے سے عید گاہ جاتے اور جب فارغ ہوتے تو موچیوں کے راستے سے اپنے گھر پلٹتے۔
وَأَمَّا أَضْعَفُهُمَا فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُنَيْسٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكَبِّرُ يَوْمَ الْفِطْرِ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى ". مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ضَعِيفٌ، لَا يُحْتَجُّ بِرِوَايَةِ أَمْثَالِهِمَا، وَالْحَدِيثُ الْمَحْفُوظُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ، وَرُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهُمْ مِثْلُ مَا رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي التَّكْبِيرِ عِنْدَ الْغُدُوِّ إِلَى الْمُصَلَّى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلتے وقت اور عید گاہ تک جاتے وقت تکبیریں کہتے تھے۔
(ب) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کی ایک جماعت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مثل بیان فرماتے ہیں کہ وہ صبح سے عیدگاہ پہنچنے تک تکبیر کہتے تھے۔
موسیٰ بن محمد بن عطاء منکر الحدیث اور ضعیف ہے، اور ولید بن محمد مقری ضعیف ہے، ان جیسوں کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔
(ب) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کی ایک جماعت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مثل بیان فرماتے ہیں کہ وہ صبح سے عیدگاہ پہنچنے تک تکبیر کہتے تھے۔
موسیٰ بن محمد بن عطاء منکر الحدیث اور ضعیف ہے، اور ولید بن محمد مقری ضعیف ہے، ان جیسوں کی روایت سے دلیل نہیں لی جاتی، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمِنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: " كَانُوا فِي التَّكْبِيرِ فِي الْفِطْرِ أَشَدَّ مِنْهُمْ فِي الْأَضْحَى ". وَرَوَى الشَّافِعِيُّ بِإِسْنَادِهِ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُكَبِّرُونَ لَيْلَةَ الْفِطْرِ فِي الْمَسْجِدِ يَجْهَرُونَ بِهِ، وَعَنْ جَمَاعَةٍ مِنْهُمْ: جَهْرُهُمْ بِهِ عِنْدَ الْغُدُوِّ إِلَى الْمُصَلَّى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عید الفطر میں عید الاضحیٰ کی بہ نسبت زیادہ تکبیریں کہتے تھے۔
(ب) تابعین کی ایک جماعت سے امام شافعی رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں کہ وہ مسجد میں عید الفطر کی رات بلند آواز سے تکبیریں کہتے اور صبح سے عید گاہ جانے تک بلند آواز سے تکبیریں کہتے تھے۔
(ب) تابعین کی ایک جماعت سے امام شافعی رحمہ اللہ نقل فرماتے ہیں کہ وہ مسجد میں عید الفطر کی رات بلند آواز سے تکبیریں کہتے اور صبح سے عید گاہ جانے تک بلند آواز سے تکبیریں کہتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: خَرَجَ ابْنُ ⦗٣٩٦⦘ الزُّبَيْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَلَمْ يَرَهُمْ يُكَبِّرُونَ، فَقَالَ: " مَا لَهُمْ لَا يُكَبِّرُونَ، أَمَا وَاللهِ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَقَدْ رَأَيْتَنَا فِي الْعَسْكَرِ مَا يُرَى طَرَفَاهُ فَيُكَبِّرُ الرَّجُلُ فَيُكَبِّرُ الَّذِي يَلِيهِ حَتَّى يَرْتَجَّ الْعَسْكَرُ تَكْبِيرًا، وَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ كَمَا بَيْنَ الْأَرْضِ السُّفْلَى إِلَى السَّمَاءِ الْعُلْيَا ".
حافظ ثناء اللہ
تمیم بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما عید الاضحیٰ کو نکلے تو انہوں نے لوگوں کو دیکھا، وہ تکبیریں نہیں کہہ رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ان کو کیا ہے کہ تکبیریں نہیں کہتے؟ اللہ کی قسم! صحابہ تو کہا کرتے تھے۔ ہم نے تو لشکروں کو دیکھا ہے کہ ایک طرف سے ایک آدمی تکبیر کہتا، پھر اس کے ساتھ والا، یہاں تک کہ لشکر میں تکبیر کی گونج پیدا ہو جاتی۔ یقیناً تمہارے درمیان اور ان کے درمیان نیچے والی زمین اور اوپر والے آسمان کے فاصلے جتنا فرق ہے۔