السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: الخروج في الأعياد إلى المصلى باب: عیدین میں عید گاہ کی طرف نکلنے کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى، فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ، وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَى صُفُوفِهِمْ، فَيَعِظُهُمْ، وَيُوصِيهِمْ، وَيَأْمُرُهُمْ، فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَهُ، أَوْ يَأْمُرَ بِشَيْءٍ أَمَرَ بِهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: " فَلَمْ يَزَلِ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى خَرَجْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ، فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُصَلَّى إِذَا مِنْبَرٌ مِنْ لَبِنٍ قَدْ بَنَاهُ كَثِيرُ بْنُ الصَّلْتِ، وَإِذَا مَرْوَانُ يُرِيدُ أَنْ يَرْتَقِيَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَجَبَذْتُ بِيَدِهِ فَجَبَذَنِي وَارْتَقَى، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقُلْتُ لَهُ: غَيَّرْتُمْ وَاللهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّهُ قَدْ ذَهَبَ مَا تَعْلَمُهُ، فَقُلْتُ: مَا أَعْلَمُ وَاللهِ خَيْرٌ مِمَّا لَا أَعْلَمُ، قَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَجَعَلْنَاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْيَمَ.سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف جاتے تو سب سے پہلے نماز سے ابتدا کرتے۔ پھر پھرتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور لوگ صفوں میں بیٹھے ہوتے۔ آپ ﷺ ان کو وعظ و نصیحت فرماتے اور حکم دیتے۔ اگر آپ ﷺ کا لشکر ترتیب دینے کا ارادہ ہوتا تو لشکر ترتیب دیتے یا کسی چیز کا حکم دیتے پھر چلے جاتے۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ اسی طریقے پر رہے یہاں تک کہ میں مروان کے ساتھ عید الاضحی یا عید الفطر میں نکلا۔ جب ہم عید گاہ پہنچے تو وہاں اینٹوں کا بنا ہوا منبر تھا، جس کو کثیر بن صلت نے بنایا تھا۔ مروان نے اس پر چڑھنا چاہا۔ جب مروان نے نماز سے پہلے اس پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو میں نے اس کو ہاتھ سے کھینچا اور لوگ جمع ہو گئے تو اس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا تو میں نے کہا کہ تم نے طریقے کو تبدیل کر دیا ہے۔ مروان کہنے لگا: اے ابوسعید! وہ طریقہ ختم ہو چکا جس کو آپ جانتے ہیں۔ میں نے کہا: جس کو میں جانتا ہوں، اللہ کی قسم! وہ بہتر ہے اس سے جس کو اب میں نہیں جانتا۔ مروان کہنے لگا کہ لوگ نماز کے بعد بیٹھتے نہیں، اس لیے خطبہ ہم نے نماز سے پہلے شروع کر دیا۔