السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: التكبير ليلة الفطر ويوم الفطر وإذا غدا إلى صلاة العيدين باب: عید الفطر کی رات، عید الفطر کے دن اور جب عیدین کی نماز کے لیے نکلے تو تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 6133
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: خَرَجَ ابْنُ ⦗٣٩٦⦘ الزُّبَيْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَلَمْ يَرَهُمْ يُكَبِّرُونَ، فَقَالَ: " مَا لَهُمْ لَا يُكَبِّرُونَ، أَمَا وَاللهِ فَعَلُوا ذَلِكَ، فَقَدْ رَأَيْتَنَا فِي الْعَسْكَرِ مَا يُرَى طَرَفَاهُ فَيُكَبِّرُ الرَّجُلُ فَيُكَبِّرُ الَّذِي يَلِيهِ حَتَّى يَرْتَجَّ الْعَسْكَرُ تَكْبِيرًا، وَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ كَمَا بَيْنَ الْأَرْضِ السُّفْلَى إِلَى السَّمَاءِ الْعُلْيَا ".حافظ ثناء اللہ
تمیم بن سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما عید الاضحیٰ کو نکلے تو انہوں نے لوگوں کو دیکھا، وہ تکبیریں نہیں کہہ رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ان کو کیا ہے کہ تکبیریں نہیں کہتے؟ اللہ کی قسم! صحابہ تو کہا کرتے تھے۔ ہم نے تو لشکروں کو دیکھا ہے کہ ایک طرف سے ایک آدمی تکبیر کہتا، پھر اس کے ساتھ والا، یہاں تک کہ لشکر میں تکبیر کی گونج پیدا ہو جاتی۔ یقیناً تمہارے درمیان اور ان کے درمیان نیچے والی زمین اور اوپر والے آسمان کے فاصلے جتنا فرق ہے۔